Wednesday, 17 November 2021

Essay on Importance of national language (قومی زبان کی اہمیت) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

 قومی زبان کی اہمیت پر مضمون –1600سے زائد الفاظ

زبان محض اظہار خیالات کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ قوم کی تمام روایات کی حامل ہوتی ہے اور اس کے بولنے والوں کو اس کے ایک ایک لفظ سے قلبی تعلق ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر ایک قومی زبان کی ترویج ہو تو اس بات کا امکان قومی ہوجاتا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان جذباتی تعلق اور گہرا ہو جائے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو زبان کو قومی زندگی میں صحیح مقام دیے بغیر قومی یک جہتی اور یگانگت پیدا نہیں کی جاسکتی ۔ قومی زبان اور علاقائی زبانوں کے اپنانے سے من حیث القوم ہمارا احساس کمتری ختم ہو سکتا ہے اور ہم میں خود اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے ۔ قومی زبان کے احیاء اور ترویج سے فکر و ذہن کی یکسانیت قائم ہو سکتی ہے اور بین الصوبائی محبت اور اپنائیت کا جذبہ بھی فروغ پاسکتا ہے ۔

جس طرح ہماری زندگی پر ہماری زبان کا گہرا اثر ہے اسی طرح ہماری زبان کا ہماری معاشرتی زندگی پر بھی نمایاں اثر ہے ۔ مگر ہم تو دوسروں کی زبان اور تہذیب اور ثقافت کے اس قدر دلدادہ ہو گئے ہیں کہ اپنی زبان و معاشرت کو اس کا جائز مقام دینے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔

"چونکہ ہم اپنی زبان کو حقیر سمجھتے ہیں اس لئے اپنی ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں ۔ ہم سے زیادہ دنیا کی کوئی زبان احساس کمتری میں مبتلا نہیں ۔ ہم میں قومی خودداری کا نام نہیں ۔ لے دے کے ہم زبان سے اسلام کی برتری کا اعلان کرتے ہیں مگر دراصل یہ ہمارا فرار ہے ۔ ہم دل سے اسلام کی برتری کے بھی قائل نہیں ہیں اگر ایسا ہوتا تو ہم ہر روز اسلام کو ایک نئے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کرتے ۔ جہاں تک ہمارا اپنی ثقافت سے تعلق ہے وہ اظہر من الشمس ہے ہمارے نئے گلی کوچوں کے نام اکثر غیر زبان میں ہوتے ہین ۔ اداروں کے نام غیر زبان میں ہیں ایسا کم ہوتا ہے کی ہم کسی مجلس میں کسی شخص کو اپنی زبان بغیر انگریزی کی آمیزش کے بولتے ہوئے سنیں ۔ "                   (ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی )

ڈاکٹر صاحب کے ان افکار سے کس کو مجال انکار ہے ؟ دراصل وہ احساس کمتری جو دور غلامی سے ہمارے اذہان پر مسلط ہے اس سے پیچھا چھڑایا نہیں جاسکا اور نہ اس اے گلوخلاصی کرائی جا رہی ہے ۔ ہم آج بھی دیس کی بنی ہوئی اشیاء کے مقابلے میں بدیسی اشیاء کو اہمیت دیتے ہیں ۔ نہ ہمیں اپنی مصنوعات اچھی لگتی ہیں نہ اپنی تہذیب و ثقافت کو مقدم جانتے ہیں ۔ ہم میں بیشتر منہ ٹیڑھا کر کے یورپی اسٹائل میں انگریزی بولتے ہیں مگر اپنی قومی زبانوں سے گریز اختیار کرتے ہیں ۔


بےشک قومی زبان احساس قومیت ابھارنے کی ایک بہت بڑی قوت ہے ۔ عوام الناس میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کے لیے اردو زبان بنیادی کردار ادا کر رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زبان کا استعمال عوام و خواص میں یگانگت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ طبقاتی امتیازات کی بیخ کنی کرتا ہے ۔

کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ یورپی زبانوں کے ذریعے علمی ترقی ممکن ہے اور فی زمانہ پاکستان میں جو ترقی ہو رہی ہے اس میں انگریزی زبان کا حصہ زیادہ ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اردو زبان کی کم مائیگی کا یہ حال ہے کہ وہ قومی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ؟ زبان کوئی کنکریٹ چیز نہیں ہق اور نہ ہی یہ کوئی مجرد شے ہے ۔ اس کی مثال تو ایک بہتے دریا کی سی ہے جس میں روانی رہے تو بہتر ہے اگر پانی بھی کسی جگہ پر کھڑا رہے تو اس میں بھی بدبو پیدا ہو جاتی ہے ۔ زبان کے دریا میں روانی اور طغیانی لانے کے لیے لاکھوں دماغوں میں جوش فکر لانا ہوتا ہے ۔

اردو زبان کے مخالفین ہر دور میں رہے ہیں ۔ سر سید کے دور میں جب اردو ہندی تنازع (1867)ہوا تو سر سید کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ ایک نئی سوچ کے ساتھ میدان میں اترے ۔ ہندو یہ چاہتے تھے کہ اردو کی بجائے ہندی کو کل ہند کی زبان کی حیثیت حاصل ہوجائے ۔ اس بحث نے بڑی خطرناک صورت اختیار کر لی مگر اردو پسند طبقے نے اس کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دیں ۔ بہت سے اہل قلم نے اس زبان کو نکھارنے اور سنوارنے کے لیے شبانہ روز خدمت کی مگر بقول شاعر

گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے

کیا اردو میں تعلیم ممکن نہیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بہت سوچا گیا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جب انگریزوں کو جدید تعلیم رائج کرنے کا خیال آیا تو انہوں نے دہلی کالج کے ذریعے اردو ہی میں ابتدا کی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور پھر جامعہ کراچی میں بھی یہی تجربہ کامیاب رہا ۔ ایک اور خام خیالی ہمارے ذہنوں کو جکڑے ہوئے ہے کہ اگر انگریزی کو ترک کر دیا گیا تو ہماری قومی دھارے میں ہمارا ارتقائی سفر رک جائے گا ۔ جب ہم دو ڈھائی سو سال انگریزی پڑھنے کے بعد جاپان کے ہمسر نہیں ہوسکے اور زندگی کے بیشتر میدانوں مین چین کا مقابلہ نہیں کر سکے تو پھر مزید بھٹکنے کی ضروریات کیا ہے ۔ اور تو اور انگریز اور انگریزی بھی جاپانی اور جاپانیوں ،چینی اور چینیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے ۔

جب چین کی وزیراعظم چواین لائی تھے تو ایک سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے ہم پاکستانیوں نے (جن کو قومی زبان اردو ہے ) ہر راستے ، سڑک اور ہر شاہراہ پر تہنیتی پیغامات کے بڑے بڑے پوسٹر انگریزی زبان میں آویزاں کر دیے ۔ سرکاری سطح پر انگریزی زبان میں انہیں کوش آمدید کہا گیا ، سپاس نامہ انگریزی میں پڑھا گیا مگر موصوف نے ہر خیر مقدم اور ہر سوال کا جواب اپنی مادری اور قومی زبان چینی میں دیا ۔ اس میں شک نہیں کہ موصوف انگریزی بڑی روانی سے بولنے مین ید طولیٰ رکھتی تھے مگر انہوں نے قومی زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا اور اس میں انہوں نے باک یا شرم محسوس نہیں کی بلکہ بلند بانگ کہا کہ "چین گونگا نہیں ہے۔"

 اعلیٰ تعلیمی سطح پر قومی زبان کی ترقی اور استعمال سے جواب تخلیق ہوتا ہے وہ عوام و خواص دونوں کے لیے قابل فہم اور قابل فخر ہے جبکہ غیر ملکی زبان عوام اور طلبا کے لیے خاطر کا سبب ہے ۔ جب تک کوئی قوم اپنی قومی زبان کو بلند درجے پر فائز کرنے کی سعی نہیں کرتی اس وقت تک اس کے افراد میں قوت اظہار اور انفرادی رنگ پیدا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی تخلیقی قوتیں اجاگر ہو سکتی ہیں ۔ افراد کے قلوب و اذہان کی تطہیر اور تربیت کے لیے قومی زبان کی تدریس و تعلیم عام ہونی چاہیے ۔ بدقسمتی سے قوم کا ایک بہت بڑا یورپ نواز طبقہ اردو زبان کے خلاف صف آراء ہے ۔ ان کالے انگریزوں کی کالی سوچ قومی زبان کی ترویج و اشاعت اور تدریس کی راہ میں سد سکندری بنی ہوئی ہے ۔ یہ اسلام دشمن اور دشمن نواز افراد اپنی سابقہ تربیت کے سبب انگریزی کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہے اور اس حد تک اس کے عشق میں گم ہو چکا ہے کہ انگریزی تہذیب و ثقافت کو تابہ ابد اپنے ملک پر مسلط دہکھنا چاہتا ہے ۔ اس کی کج فکری کا خلاصہ یہ ہے کہ اردو بےمایہ زبان ہے اور انگریزی کے سبب اس ملک کے دروبام تابناک ہو جائیں گے ۔ علامہ محمد اقبال نے اس اعتراض سے بہت پہلے ہی اس کا جواب دی دہا تھا ۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے ہے چمک تہذیب حضر کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں ریزہ کاری ہے

انگریزی زبان کی زرخیزی اور اردا کی تہی دامنی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ بات شاید فراموش کر دیتے ہیں کہ کوئی بھی زبان پہلے ہی دن اعلیٰ درجے کی اعلیٰ یا سائنسی زبان نہیں بن جاتی ۔ یہ ایک ارتقائی اور تدریجی عمل ہے اور اردو ایک اعلیٰ منصب اسی وقت حاصل کر سکتی ہے جب اسے نشونما پانے کے بھر مواقع دیے جائیں ۔

اردو کی زبان کی اہمیت و افادیت سے انکار کرنا صریحاً ناانصافی ہے ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں تحریک پاکستان کے کمزور جسم میں زندگی کی روح پھونتنے والی زبان کون سی ہے ۔

پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ

ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح

مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ

لے کے رہیں گے پاکستان ، بٹ کے رہے گا ہندوستان

اسی زبان کی وجہ سے دو قومی نظریے کو فروغ ملا ، اسی کے برتے پر برصغیر کے مسلمانوں کو جان و مال کی غیر معمولی قربانیوں پر آمادہ کیا گیا اسی زبان کا واسطہ دے کر پاکستان کے حق میں ووٹ لیے گئے ۔ غرض یہ کہ پاکستان کی تحریک میں اردو زبان نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ  پاکستان اسلام کے بعد اور کسی اور چیز کے تحفظ کے لیے وجود میں آیا ہے تو وہ اردو زبان ہے ۔ قائداعظم کی مادری زبان اگرچہ اردو نہ تھی لیکن انہیں اس بات کا درک تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے اردو کا مستحکم ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے اردو کی سیاسی اہمیت کے لیے نعرہ لگایا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی ۔

قومی زبان اردو کی اشاعت اور فروغ نہ صرف ہماری معاشرتی اور سیاسی زندگی کے لیے ناگزیر ہے بلکہ بین الاقوامی طور پر پاکستان کی سربلندی کا نشان بھی ہے ۔ یہ وقت کی آواز ہے کہ ہم قومی زبان کو اختیار اور رائج کرنے کے لیے نہایت اخلاص عمل اور دیانت داری سے کام کریں ۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے مین اس زبان کا چلن کرنا ہوگا ۔ تعلیم تجارت معیشت سیاست تکنیکی امور میں اردو سے کام لیاجانا چاہیے کیونکہ یہ اردو کا حق ہے ۔ اردو اور پاکستانیون کا تعلق دو چار برس کی بات ہے نہ نصف صدی کا قصہ ہے ۔ اس کا تو خدا کے فضل سے ہمارے ساتھ صدیوں پرانا تعلق ہے ۔ کسی شاعر نے یہ حقیقت اس طرح بیان کی ہے ۔

اب کا نہیں یہ ساتھ ، یہ صدیوں کا ساتھ ہے

تشکیل ارض پاک میں اردو کا ہاتھ ہے

یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ہمارے متعدد قلمکاروں کی بےاعتنائی کے باوصف اردو زبان حیرت انگیز ترقی کر رہی ہے ۔ وہ کون سی زبان ہے جس میں سب سے زیادہ کتابیں طبع ہوتی ہیں اور فروخت ہوتی ہے کیا پاکستان میں انگریزی اخبارات کا اشاعت کے اعتبار سے وہی درجہ ہے جو اس وقت اردو اخبارات کا ہے ؟

فی زمانہ بہت سے اہل قلم بےشمار رکاوٹوں کے باوجود اردو ترقی کے لیے دامے درمے سخنے کوشش کر رہے ہیں اور بفضل خدا اس زبان میں اب اتنی جامعیت اور وسعت پیدا ہوچکی ہے کہ وہ سائنسی مضامین سمیت جملہ علوم و فنون کی تعلیم و تدریس کا بوجھ اٹھا سکے ۔

 

Sunday, 14 November 2021

Essay on Women Education (تعلیم نسواں) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

تعلیمِ نسواں پر مضمون – 1500 سے زائد الفاظ 

دنیا میں مردوں کی شرح خواندگی عورتوں کی نسبت زیادہ ہے ۔ مرد زیادہ پڑھے لکھے ہیں ۔ جب کہ عورتیں کم تعلیم یافتہ ہیں ۔ حال آں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا پڑھا لکھا ہونا بھی بےحد ضروری ہے ۔ مرد ، عورت معاشرے کے دو اہم ستون ہیں ۔ دونوں کے بغیر زندگی کی عمارت ادھوری ہے ۔ مرد اور عورت مکمل اس وقت کہلانے کا استحقاق رکھتے ہیں ، جب وہ تعلیم یافتہ ہوں کیونکہ تعلیم انسان میں شعور بیدار کرتی ہے ۔ اسے اچھے برے میں تمیز سکھاتی ہی ۔ نیکی کو برائی سے جدا کرتی ہے ۔ خودی کو بلند کرتی ہے اور بندے کو خداشناسی عطا کرتی ہے ۔ لہذا تعلیم حاصل کرنا مرد اور عورت کے لئے یکساں ضروری ہے ۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا :

"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے ۔"

پاکستان میں خواتین کی تعداد تقریباً مردوں کے برابر ہے ۔ اس لئے انھیں تعلیم دینا بہت ضروری ہے کیونکہ آدھی آبادی اگر ناخواندہ ہوگی تو ملکی ترقی کسی طور ممکن نہیں ۔ پرانے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ تعلیم یافتہ خواتین اپنے گھر کے کام کاج نہیں کرتیں اور انھیں گھر کی دیکھ بھال کرنا نہیں آتا ۔ مگر اب گھر بار کو سلیقہ سے چلانے کی جتنی ذمہ داری تعلیم یافتہ عورتیں قبول کرتیں ہیں ، ان پڑھ عورتیں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔ تعلیم یافتہ عورت کے ہر کام میں ایک سلیقہ اور ایک نکھار ہوتا ہے ۔ اسی طرح شادی بیاہ کے معاملات میں بھی پڑھی لکھی عورت کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کے لئے بھی اچھی ماں ثابت ہوگی ۔

مردوں کی تعلیم ضروری تو ہے مگر

پڑھ جائے جو خاتون تو نسلیں سنوار دے

عورت چاہے مشرق کی ہو یا مغرب کی ، اس نے دنیا سے علم کے بل بوتے پر اپنا آپ منوا لیا ہے ۔ اب تو پاکستان میں بھی خواتین دفاتر میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور وہ گھر کی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھاتی ہیں ۔ ایک وقت تھا ، عورتوں کا دفاتر میں کام کرنا برا جانا جاتا تھا ۔ لیکن آج جب کہ دنیا اکیسیویں صدی میں داخل ہوچکی ہے ، انسانی ترقی کا یہ عالم ہے کہ وہ خلا کی وسعتوں اور سمندر کی گہرائیوں میں اتر چکا ہے ۔ ایسے میں لوگوں کے رجحان میں واضح تبدیلی آئی ہے ۔ اب پہلے جیسے حالات نہیں رہے ۔ عورتیں اب زندگی کے ہر شعبہ میں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ وہ نہ صرف دفاتر ، فیکٹریوں ، سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ملازمت کرتی ہیں بل کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بھی فائز ہیں ۔


میڈیکل کے شعبہ میں بھی عورتوں نے بڑی ترقی ہے ۔ ڈاکٹر خالدہ عثمانی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ۔ سرجری کے میدان میں انھوں نے پاکستان کا نام روشمن کیا ہے ۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں عورتوں کی شمولیت کو سراہا گیا ہے ۔ اب تو لڑکیاں ہوائی جہاز بھی اڑانے لگ گئی ہیں ۔

پاکستان کی وزیراعظم بھی ایک خاتون رہ چکی ہیں ۔ تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو ملکہ نور جہان ایک پڑھی لکھی خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ امورِ خانہ داری میں بھی بےحد مہارت رکھتی تھیں ۔ نت نئے لباس تیار کروانے میں وہ بہت مہارت رکھتی تھیں ۔ کئی خوشبوئیں انھوں نے ایجاد کیں اور شعر و ادب میں بھی ان کے تخیل کی پرواز بہت بلند تھی ۔ اپنے خاوند جہانگیر بادشاہِ وقت کو بھی مفید مشوروں سے نوازتی تھیں ۔ ملکی امور میں ان کے مشوروں سے گراں قدر ترقی کی راہیں ہموار ہوئیں ۔ اسی طرح چاند بی بی ، رضیہ سلطانہ ، برطانیہ کی وزیراعظم تھیچر ، ترکی کی وزیراعظم تانسولیز ، ملکہ الزابیتھ جو برطانیہ کی ہیڈ آف سٹیٹ ہیں ۔ یہ سب خواتین ہیں جو کہ اپنے نام تاریخ میں روشن حروف سے لکھوا چکی ہیں ۔

ایک تعلیم یافتہ خاتون اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا جانتی ہے ۔  وہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوتی ہے ۔ جب کہ ان پڑھ عورتیں مفید شہری بھی ثابت نہیں ہو سکتیں ۔ اسلام نے تو چودہ سو سال پہلے ہی عورت کی تعلیم کی اہمیت واضح کر دی ہے ۔ ایک حدیث پاک میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ :

"علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے ۔"

ضروری نہیں کہ پڑھ لکھ کر عورت ڈاکٹر ، انجینئر یا پائلٹ ہی بنے ۔ عورت کی پہلی ذمہ داری اس کا گھر ہے ۔ وہ پڑھی لکھی ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ بہتر طریقے سے نبھا سکتی ہے ۔ حساب کتاب ، لین دین اور بچوں کی تعلیم و پرورش جیسے کام خوبصورتی سے سر انجام دے سکتی ہے ۔ جب ایک مرد تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ اپنا آپ سنوارتا ہے ، جب کہ ایک عورت جب تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ پورا خاندان سنوار دیتی ہے ۔ وہ اپنی تعلیم کو اپنے بچوں میں منتقل کر دیتی ہے ۔ پڑھی لکھی عورت اچھی ماں ثابت ہوتی ہے۔ ماں بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے ۔ بچہ جو کچھ بھی سیکھتا ہے ، وہ اپنی ماں ہی سے سیکھتا ہے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ "چور کو نہ پکڑو ، اس کی ماں کو پوچھو ۔" اچھائی، برائی میں تمیز انسان اپنی ماں کی گود ہی سے سیکھتا ہے ۔ ماں عظمت کا مینار ہوتی ہے ۔ اللّٰہ نے اسے بڑی شان اور رتبہ عطا کیا ہے ۔ جنت ماں کے قدموں تلے ہے یعنی ماں کی خدمت کر کے انسان جنت کا حقدار کہلاتا ہے اور یہ سنت تب ہی ممکن ہے ، جب عورت علم سے آشنا ہو ، خود سے آشنا ہو ۔ اپنے رب سے آشنا ہو ۔ رب سے آشنائی علم کی بدولت حاصل ہوتی ہے ۔ مردوں کی نسبت عورتوں کا مذہب کی طرف زیادہ رجحان ہوتا ہے ۔ وہ زیادہ عبادت گزار ہوتی ہیں ۔ ایسے میں اگر ان کو مناسب مذہبی تعلیم دی جائے تو وہ ابتدا ہے سے اپنے بچوں میں مذہبی رجحان پیدا کر سکتی ہیں ۔ کیونکہ ماں بچے سے بہت زیادہ قریب ہوتی ہے ۔ اس لئے وہ جو اپنے بچہ کو سکھاتی ہے ، وہ ساری عمر اسے یاد رہتا ہے ۔ لہذا ماں کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے ۔

کسی بھی گھر کا نظام درست حالت میں چلانے کے لئے گھر کا بجٹ بنانا نہایت ضروری ہوتا ہے ۔ ایک پڑھی لکھی عورت گھر کا حساب کتاب اچھے طریقے سے کرتی ہے ۔ وہ کفایت شعار ہوتی ہے ۔ وہ ایک ترتیب اور قرینے سے گھر کا نظام چلاتے ہوئے کچھ رقم پس انداز بھی کر لیتی ہے ، جو کہ مصیبت کے وقت کام آتی ہے ۔ لیکن ایک ان پڑھ عورت ایسا نہیں کر سکتی ۔ وہ حساب کتاب نہیں کر سکتی لہذا مہینے کے آخر میں میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں اور ان جھگڑوں کا بچوں کے معصوم ذہنوں پر منفی اثر ہوتا ہے ۔ ایسی ماؤں کے بچے مفید شہری نہیں بن سکتے ۔ ان پڑھ عورتیں ضیعف العتقاد ہوتی ہیں ۔ وہ مذہب سے دور ہوتی ہیں ۔ وہ توہم پرست ہوتی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی توہم پرست بنا دیتی ہیں ۔ ایسی مائیں اپنے بچوں کو بڑوں کا ادب و احترام کرنا بھی نہیں سکھاتیں ۔ کیونکہ ان کی اپنی تربیت بھی نہیں ہوئی ہوتی ۔ وہ اپنے بچوں میں تعلیم کا شعور بیدار کرنے سے بھی قاصر ہوتی ہیں ۔

علم میں دولت بھی ہے قدرت بھی لذت بھی ہے

ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

اگلے وقتوں میں اگر عورت تعلیم یافتہ نہیں بھی ہوتی تھی تو بھی اس کو اچھا رشتہ مل جاتا تھا ۔ کیونکہ اس وقت خاندانی نظام مضبوط تھا ۔ آج خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے ۔ آج سب سے پہلے یہی بات پوچھی جاتی ہے کہ لڑکی کی تعلیم کتنی ہے ؟ اور جو بالکل ہی مادیت پرست لوگ ہیں ۔ وہ ملازمت پیشہ خواتین کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایسے حالات میں عورت کی تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہو گیا ہے ۔

تعلیم انسان کو شعور کی دولت سے نوازتی ہے ۔ وہ انسان کا کردار سنوارتی ہے ۔ وہ انسان کو پاکیزہ بناتی ہے ۔ روح اگر پاکیزہ ہوگی تو انسان کا وجود بھی پاکیزہ ہوگا ۔ اسلام طہارت و پاکیزگی کا درس دیتا ہے ۔ روح اور جسم کی پاکیزگی سے صحت و تندرستی حاصل ہوتی ہے ۔ ایک تعلیم یافتہ عورت حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں سے واقف ہوتی ہے ۔ وہ اپنے گھر کے ماحول کو صاف ستھرا رکھتی ہے ۔ عورت چاہے کتنی ہی پڑھی لکھی کیوں نہ ہو ، اگر وہ گھریلو امور سلیقہ مندی سے انجام نہیں دے سکتی تو وہ کبھی اپنے خاوند کی منظورِ نظر نہیں ہر سکتی ۔ ضرورت پڑنے پر ایک پڑھی لکھی خاتون مناسب ملازمت کر کے اپنے گھر کے اخراجات میں خاوند کا ہاتھ بٹا سکتی ہے ۔ ایک ان پڑھ عورت اگر سینا پرونا جانتی ہے تو وہ اس کو اگر پیشے کے اعتبار سے اپناتی ہے تو وہ درزن کہلاتی ہے ۔ جب کہ ایک پڑھی لکھی عورت اگر اسی کام میں مہارت رکھتے ہوئے کوئی بوتیک بناتی ہے تو وہ فیشن ڈیزائنر کہلاتی ہے ۔

ان ساری باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتوں کی تعلیم کے حصول کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ ان کے لئے زیادہ ہائی سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں اور انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ عورتیں تعلیم حاصل کریں اور ملک کی مفید شہری بنیں ۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اس علم کو اربابِ نظر موت

 

Saturday, 13 November 2021

Essay on Ethics and Life (ادب اور زندگی) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

ادب اور زندگی پر مضمون – 1800 سے زائد الفاظ

مختلف ادوار میں ادب کےبارے میں مختلف نظریات رہے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ جب ہر تحریر کو ادب کہا جاتا تھا ۔ پھر لغوی اعتبار سے ادب سے مراد ہر لفظ لیا جانے لگا ۔ ادب کی یہ تعریف مغربی افکار کے اثرات کے تحت بیان کی گئی تھی ۔ کیونکہ انگریزی میں ادب کے لئے لفظ لٹریچر استعمال کیا جاتا ہے اور انگریزی لٹریچر کا لفظ اس پرچی کے لئے استعمال ہوتا ہے جو دوا کی شیشی کے ساتھ ڈبیا میں بند ہوتی ہے اور جس پر دوا کی ترکیب استعمال درج ہوتی ہے ۔ ایسے لٹریچر میں سیاسی ادب اور قانونی ادب بھی شامل ہے لیکن جب ہم ادب کو علم اور فن کی حیثیت میں دیکھتے ہیں تو پھر دوائی کے ترکیب استعمال کی پرچیاں ، حکمت کے نسخے ، سائنس کے کلیے اور قاعدے اور قانونی تحریریں سب کچھ دائرہ ادب سے خارج ہو جاتا ہے تاہم پھر بھی ادب کا تصور واضح نہیں ہوتا ۔

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

ادب کے متعلق کسی بھی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے ۔ سب سے پہلے اس امر کا تعین ہی مشکل ہے کہ ادب فن ہے یا علم ۔ پھر فن اور علم کے درمیان کون سا فرق واضح ہے ؟ مغرب کے نقادوں نے فن اور علم کے درمیان اس فرق کو واضح کرنے کی سعی کی ہے ۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں رہے ۔ کیونکہ ادبیات کی تاریخ میں مورخوں ، فلسفیوں اور سائنسدانوں کا بھی ذکر موجود ہے ۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے ادبیات میں برکلے ، ہیوم نیوٹن ، بیکس ، فرائڈ ، ڈارون کا ذکر ملتا ہے ۔ کیا یہ سب عالم سائنسدان تھے یا ادیب ؟ اب علماء کو تاریخ ادبیات میں اس لئے جگہ دی گئی کیونکہ مغربی علماء کے نزدیک تہذیب ، انسانی فکر کی تاریخ ہے اور ادب ، انسانی فکر کا ایک مخصوص نقطہ نظر سے مطالعہ کا نام ہے ۔ لہذا انہوں نے فن اور علم کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے بیان کیا تو کہا کہ علم انسانی ذہن اور فکر کو مخاطب کرتا ہے جبکہ ادب انسانی جذبات و احساسات سے خطاب کرتا ہے اور انہیں متاثر کرتا ہے یعنی علم منطق کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ جب کہ ادب وجدان اور تخیل کی روشوں پر گامزن ہے ۔


مشہور مغربی نقاد آئی اے رچرڈ نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ادب وہی ہے جو ہماری زندگی کا عکاس و ترجمان ہے جو ہمارے جذبات و احساسات کو متاثر کرتا ہے اور ان کو آسودگی فراہم کرتا ہے لہذا حسن و سلیقے سے موثر پیرائے میں خیالات کے اظہار کا نام ادب ہے ۔

عطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میں

کہ بامِ عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں

مذکورہ بالا تعریف سے واضح ہے کہ ادب اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ادب اور زندگی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے دونوں آپس میں اس طرح لازم و ملزوم ہیں کہ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور ناممکن ہے ۔ زندگی میں جو واقعات ، حادثات اور حالات رونما ہوتے ہیں ۔ ادب ان حادثات و واقعات کو نہایت سلیقے اور قرینے سے موزوں اور مناسب الفاظ میں بیان کر دیتا ہے ۔ اسی سلیقے اور قرینے اور موزونیت سے ادب میں تاثیر پیدا ہوتی ہے اور وہ قاری کے جذبات و احساسات کو متاثر کرتا ہے ۔ چنانچہ جب کسی قاری کے جذبات و احساسات متاثر ہوتے ہیں تو اعصاب میں آسودگی پیدا ہوتی ہے ۔ لہذا ادب آسودگی کے حصول کا ذریعہ ہے ۔

زندگی ایک وسیع و عریض سمندر کی مانند ہے ۔ جس میں وقتاً فوقتاً جواد بھاٹا پیدا ہوتا رہتا ہے ۔ اس سمندر میں لہریں بن آتی ہے ۔ طوفان برپا ہوئے ہیں اور کبھی مکمل سکون قائم ہو جاتا ہے ۔ ادب ان تمام حالات کا نہ صرف عکاس ہے بلکہ ان تمام واقعات و حادثات کا محافظ اور ایک اہم دستاویز ہے جس سے کسی خاص زمانے کی معاشی ، سماجی اور سیاسی زندگی کی تصویر بنائی جاسکتی ہے ۔ علاوہ ازیں ادب ان خواہشات اور آرزوؤں کے اظہار کا نام ہے جو انسانوں کے دل میں حالات کے ردعمل کے طور پر پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ خواہشات ، کائنات کی موجودہ خامیاں دور کرنے اور اسے تکمیل کا حسن بخشنے کے متعلق ہوتی ہیں ۔ جو ادیب کے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جنم لیتی ہیں ۔ ادیب جب ان خواہشات اور قلبی واردات کو ادب کے ذریعے دوسروں کے سامنے بیان کر دیتا ہے تو وہ خاص ذہنی سکون اور قلبی سکون محسوس کرتا ہے ۔ لیکن ادب میں دوامیت اس وقت جنم لیتی ہے جب اس میں زندگی کی دائمی قدروں کے ساتھ ساتھ فنی اور جمالیاتی اقدار کی بھی رنگ موجود ہوتا ہے ۔ رومی ، سعدی ، شکسپئیر ، غالب اور اقبال کی بقا اسی حقیقت کی شاہد ہے کہ جہاں انہوں نے ادب میں زندگی کے ٹھوس حقائق و حالات کو ادب کا موضوع بنایا ہے وہاں تخیلی کی رنگ آمیزی سے بھی کام لیا ہے اور فنکاری و پرکاری بھی دکھائی ہے گویا انہوں نے زندگی کے حقائق اور کائناتی سچائیوں کو فن کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ادب تخلیق کیا ہے ۔ اسی لئے ادبی دنیا میں انہیں بقائے دوام اور شہرت عام حاصل ہے ۔

یہاں یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ ادب محض واقعات و حادثات کے بیان کا نام نہیں ہے اگر زندگی میں پیش آنے والے حقائق و واقعات اور حادثات من و عن بیان کر دئیے جائیں تو وہ ادب نہیں تاریخ ہوگئی کیوں کہ تاریخ نویسی میں صرف واقعات و حادثات کا بیان اور ان کے اسباب و عمل سے بحث ہوتی ہے ۔ ادب میں واقعات کے بیان کے ساتھ تخیل کی رنگ آمیزی ، زبان کا چٹخارہ اور فنکاری بھی شامل ہوتی ہے بلکہ ادب ان واقعات و حادثات سے پیدا ہونے والے نتائج بیان کرتا ہے ۔ یہی ادب اور تاریخ کا نمایاں فرق ہے ۔ لہذا وہی ادیب ادبی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو زندگی میں پیش آنے والے واقعات و حادثات کے بیان کے ساتھ ساتھ فنی محاسن اور فنکاری کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو

جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا

ادب زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے ۔ ادب زندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہے ۔ بلکہ زندگی کی ہی عکاسی و ترجمانی کا نام ادب ہے ۔ ہر دور کا ادب اس دور کی زندگی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور اس دور کی زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ پھر آنے والے دور کا نقیب بن جاتا ہے اس لیے کوئی ادب جہاں اپنے دور کا نمائندہ اور ترجمان ہے ۔ وہاں وہ آنے والے دور میں تخلیق ہونے والے ادب کا پیامبر اور پیش خیمہ بھی ہے ۔ کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ ادب کو زندگی سے علیحدہ صرف ادب برائے ادب ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ادب کا کام ہمیں جمالیاتی خط پہنچانا اور ہمیں آسودگی فراہم کرنا ہے گویا ادب تفنن طبع کا ایک ذریعہ ہے ۔جس سے ہم فارغ اوقات میں اپنا د بہلاتے ہیں ۔ اگر ادب میں بھی وہی زندگی کی تلخیاں اور ٹھوس حقائق موجود ہیں ۔ جن سے بھاگ کر ہم ادب کی چھاؤں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں تو پھر ادب ہمارے دکھوں کا مداوا نہیں بلکہ زخموں پر نمک پاشی کا کام دے گا ۔ ایسے ادب کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جو ہمارے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے جو ہمیں راحت و آرام دینے کی بجائے تکلیف دے ۔ ہم کوئی فلم یا تھیٹر محض اس لیے دیکھتے ہیں کہ روز مرہ کی زندگی کے کاموں نے جو ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے ان کو آسودگی حاصل ہو ۔ زندگی میں پیش آنے والے واقعات نے ہمیں جو دکھ درد دئیے ہیں ۔ ان سے چند لمحوں کے لئے چھٹکارا حاصل ہو ۔ اگر فلم یا تھیٹر دیکھ کر بھی ہمارے اعصاب کو آسودگی اور ہمارے درد کو سکون نصیب نہ ہو ۔

ادب کو محض پروپیگینڈا بنانا تجارت ہے ۔ ادب میں افادیت کا تصور کفران نعمت ہے لہذا وہ فنکار جو فن کی بجائے کسی مقصد کو تلاش کرتا ہے ۔ وہ فنکار نہیں بلکہ تاجر ہے ۔ موضوع اور مواد محض اتفاقی حیثیت رکھتا ہے ۔ اصل بات تو فن اور فنکاری ہے ۔ زندگی کے ٹھوس حقائق اور کائناتی سچائیوں سے تو ہر شخص واقف ہے ۔

سب سے پہلے جس نقاد نے ادب کو زندگی کا ترجمان ٹھرایا وہ میتھیو آرنلڈ تھا ۔ اس نے ادب کو نہ صرف زندگی کا عکاس کہا بلکہ بتایا کہ ادب زندگی کا سب سے بڑا نفاذ اور مصلح ہے ۔ جب کوئی ادیب اپنے اردگرد کے ماحول میں زندگی کو بے ترتیب دیکھتا ہے ۔ زندگی کی خامیاں اس کے سامنے آتی ہیں تو وہ ادب میں ان کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ چنانچہ وہ نہ صرف ان خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ان کی اصلاح کے لئے بھی راہیں سمجھاتا ہے ۔ زندگی میں پیش آنے والے واقعات و مشکلات کو نہ صرف بیان کرتا ہے بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے ۔ اس حل کی طرف بیلغ اشارے کرتا ہے ۔ قارئین اس طرح زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل سے واقف ہوتے ہیں ۔ اس طرح ادب نہ صرف زندگی کا ترجمان ہے بلکہ زندگی کا نقاد اور مصلح بھی ہے ۔ اکبر الٰہ آبادی کے یہ شعر ملاحظہ ہوں۔

بےپردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں

اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑھ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کے پردے کو کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

ان اشعار سے نہ صرف اکبر الٰہ آبادی کے زمانے کے حالات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ بلکہ اس زمانے کے لوگوں کی سوچ ، فکر کے انداز اور عورتوں کی بودوباش اور لباس کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ شاعر نے نہ صرف اس نئی سوچ پر طنز کی ہے بلکہ اس پر تنقید کر کے اصلاح کا پہلو نکالا ہے ۔ اس مثال سے صاف ظاہر ہے کہ ادب اور زندگی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے ۔ ادب زندگی کا ترجمان و عکاس ہے بلکہ ادب زندگی کا نقاد اور مصلح بھی ہے ۔ "مجنوں گورکھپوری" لکھتے ہیں :

"ماحول ادیب کو پیدا کرتا ہے ۔ مگر ادیب ماحول کو ازسرنو تعمیر کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ ادب بیک وقت حال کی آواز اور مستقبل کی بشارت ہے ۔ سب سے بڑا ادیب وہ ہے جو حال اور مستقبل کو ایک آہنگ بنا کر پیش کرتا ہے ۔دنیا میں جتنے بڑے ادیب و شاعر گزرے ہیں وہ سب واقعات کی کثیف دنیا میں گردن تک ڈوبے کھڑے ہیں ۔ مگر ان کے ہاتھ ستاروں کو پکڑنے کے لئے آسمان کی طرف بڑھے ہوئے ہیں۔" بقول اقبال :

میری نوائے پریشان کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرم دروں مے خانہ

الغرض ادب کا موضوع زندگی ہے اور ادب زندگی کے سماجی ، معاشرتی ، تعلیمی ، اخلاقی اور سیاسی پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے ۔ اسی تنوع سے ادب میں حسن جنم لیتا ہے ۔ اس طرح ادب کے دو بڑے فرائض بنتے ہیں ۔ ایک تو وہ دکھی لوگوں کو خوشیاں اور مسرتیں فراہم کرتا ہے۔ زخمی دلوں کے لئے مرہم مہیا کرتا ہے ۔ دوسرے وہ بھولے بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھاتا ہے ۔ مسافروں کی منزل کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان کے لئے منزل کا یقین کرتا ہے ۔ علامہ اقبال کی تمام شاعری ادب کے اسی نظریے پر پوری اترتی ہے ۔ ان کا کلام جہاں زندگی کا ترجمان و عکاس ہے ۔ وہاں زندگی کا نقاد اور مصلح بھی ہے ۔ وہ دردمندان قوم کے لئے نوید مسرت ہے اور راہرونِ منزل آزادی کا راہنما بھی ہے ۔ وہ حال کا ترجمان اور مستقبل کا بشیر بھی ہے ۔ وہ لوگوں کی دھڑکنوں اور تمناؤں کا مرکز بھی ہے ۔

 

Tuesday, 9 November 2021

Essay on Coeducation for all students | Matric, Inter and BSc English Essays | SSWT

Co-education Essay - 1100+ words

Education is the jewel of humanity. No society can progress without education. Islam also emphasizes education. The Holy Prophet (PBUH) has said that the ink of the world is better than the blood of a martyr. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said:

"The time a person spends in learning is worth worshiping."

In another hadith, he said:

"It is the duty of every Muslim man and woman to acquire knowledge."

In short, the acquisition of education is fundamental to the creation of a civilized society. No one dares to deny it.

Now let's see what is meant by co-education? The word "co" means to be mixed. Or being interconnected. Co-education, therefore, means that boys and girls’ study together in schools. The concept of co-education was created by Western civilization, where a free association of man and woman is considered permissible. Everywhere and at every place, men and women are seen working together or engaged in other pursuits. It is a daily routine for unacquainted men and women to travel long distances together, dance together in hotels and ballrooms, and participate in other festivities together. In a society where men and women live together even though they are not married, it is considered natural for young boys and girls to study together in schools. However, it is completely against the law of nature. Men and women are completely different in terms of their physical figures. In this regard, nature has determined their duties separately and differently. Therefore, our religion, Islam, which is the religion of nature, clearly commands the observance of this principle of nature. Therefore, from a religious point of view, we can say that the concept of co-education is contrary to our social, religious, and moral values. Akbar Zarabadi had even said that:

"The new education also includes religious education
 But as if the water of Zamzam has entered the wine


Supporters of co-education strongly argue that national development requires that men and women work together. They think that women can do whatever a man can do. This argument is very bad and unrealistic. Because men and women have different physical figures, their duties are different. Therefore, they should perform their duties in separate spheres. Women can perform teaching duties in girls' educational institutions. They can pursue a medical career in the field of medical treatment for women. They can set up sewing and embroidery institutes for women to take up different professions within their limits, and there is no resurrection in it.

One common argument favoring co-education is that when young boys and girls study together in educational institutions, the sexual arousal that naturally arises in them will decrease. But this argument is as ridiculous and unjustified as the first argument because where boys and girls have the opportunity to get closer, the sexual arousal will not decrease in any way but will inevitably increase. Incidents of moral depravity and sexual violence in Western educational institutions are clear evidence of the hollowness of this argument. Some people in favor of co-education say that our country is poor, so it is not in our favor to have separate educational institutions for men and women. This argument is as far from the truth as the above arguments. Educational institutions are opened according to the number of students. Therefore, even if education is mixed, there will be no reduction in expenditure even if there are separate educational institutions for men and women.

"The effect of knowledge that makes a woman delicate
 This knowledge is called the Lord of sight

A woman is an image of modesty. Modesty is rightly called a woman's ornament. This great quality can only be maintained in women if they do not associate with strange men. In this case, their social status and place will not decrease, but it will increase in Western society where there is no restriction on the free mixing of men and women. Despite the heyday of material progress, such shameful incidents have become the norm in daily life that one is embarrassed to hear or read them. Due to the abundance of this mixture, the Western woman has become a mere measure of amusement. This unbridled civilization has alienated Western women from shame, reverence, and purity. The very consciousness of these high values ​​has been taken away from them. The point has been made that marriage is now considered an outdated and useless tradition.

The glorious past of Muslims is a testament that men and women can play an important role in developing the country even without the hijab. There was a time when the boundaries of the Islamic Empire covered a vast area of ​​land. And in every sphere of life, Muslims were at the forefront of new inventions and innovations. They discovered new dimensions of knowledge, literature, and science. The West was plunged into the darkness of ignorance which was acquainted with the light of Islamic civilization. The share of books written by Muslims is very much in it. During this period, Muslim women were also engaged in the service of the country and nation within their limits. Applying ointment to the wounded in wars, changing clothes, spreading the light of knowledge everywhere, and giving full support to one's family in joys and sorrows had become their second nature. In addition, many women have left valuable writings. Haroon al-Rashid's wife, Zubeida's library, contained thousands of very rare and valuable books. The woman dug a canal from Baghdad to Mecca to alleviate the water shortage in Makkah, the traces of which can still be seen. However, Islamic history also proved that the goal of national and social development could be achieved without making women a candle to the party.

"No religion will give that high status
 The religion that Islam gives to women

Compared to Western women, the protection of their modesty and modesty is considered very important and necessary in Muslim society. Due to this, the Eastern woman is not for cheap sex but a valuable commodity. Although, there have been internal and external efforts to undermine the moral values ​​of Eastern society in the name of women's liberation. As long as Muslims remain committed to the religion and love their moral values, no one will succeed in their futile intentions. Even in the present situation, we see that separate colleges and universities are being set up at the insistence of women. Certainly, we can say that the concept of co-education will never materialize in our society. And this is the right path for our nation and country.

"You will not find the way with the light of demand
 Take your lotus in this swim

Tuesday, 2 November 2021

Essay on Coeducation (مخلوط تعلیم) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

       مخلوط تعلیم پر مضمون -1400سے زائد الفاظ  

تعلیم انسانیت کا زیور ہے ۔ کوئی بھی معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ اسلام میں بھی حصولِ تعلیم پر زور دیا ہے ۔ حضور نبی کریمؐ نے عالم کی سیاہی کو شہید کے خون سے بہتر کہا ہے ۔ آپؐ کا فرمان ہے کہ :

" انسان جو وقت حصولِ تعلیم میں صرف کرتا ہے وہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے ۔"

ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ :

" علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و وعورت پر فرض ہے ۔ "

مختصر یہ کہ مہذب معاشرے کی تخلیق کے لیے تعلیم کا حصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس سے کسی کو انکار کی جرأت ممکن نہیں ہے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مخلوط تعلیم سے کیا مراد ہے ؟ لفظ " مخلوط "  کے معنی ہیں خلط ملط ہونا ۔ یا باہم پیوستہ ہونا ۔ چنانچہ مخلوط تعلیم کی ترکیب کا مطلب یہ ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کا درسگاہوں میں اکٹھے تعلیم حاصل کرنا۔ مخلوط تعلیم کا تصور مغربی تہذیب کی پیداوار ہے ۔ جہاں عورت اور مرد کا آزادانہ میل جول روا سمجھا جاتا ہے ۔ ہر جگہ اور ہر مقام پر عورت اور مرد اکٹھے کام کرتے یا دیگر مشغولات میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔ غیر مردوں اور عورتوں کا لمبے لمبے سفر ایک ساتھ جانا ، ہوٹلوں اور ناچ گھروں میں ان کا اکٹھے ناچنا اور دیگر خرمستیوں میں اکٹھے حصہ لینا روز مرہ کا معمول ہے ۔ ایسے معاشرے میں جہاں عورت اور مرد شادی بیاہ کے بندھن میں بندھے نہ ہونے کے باوجود اکٹھے زندگی گزار رہے ہوں ، درسگاہوں میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا اکٹھے تعلیم حاصل کرنا عین فطری بات سمجھی جاتی ہے ۔ حالانکہ سراسر اصولِ فطرت کے خلاف ہے ۔ مرد اور عورت اپنی جسمانی ساخت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتے ہیں ۔ اسی اعتبار سے قدرت نے ان کے فرائض الگ الگ اور مختلف متعین کیے ہیں ۔ چنانچہ ہمارا مذہب اسلام جو کہ دینِ فطرت ہے ، فطرت کے اس اصول کی پاسداری کا واضح حکم دیتا ہے ۔ لہٰذا مذہبی نقطہ نظر سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مخلوط تعلیم کا تصور ہمارے معاشرتی ، مذہبی اور اخلاقی قدروں کے منافی ہے ۔ اکبر زار آبادی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ :

نئی تعلیم میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے

مگر یوں کہ گویا آبِ زمزم ، مے میں داخل ہے

مخلوط تعلیم کے حامی بڑی شدومد کے ساتھ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ قومی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ مرد اور عورتیں ہر کام مل جل کر کریں ۔ ان کے خیال میں عورتیں ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد سر انجام دے سکتا ہے ۔ یہ دلیل نہایت بری اور غیر حقیقت پسندانہ ہے ۔ چونکہ عورتوں اور مردوں کی جسمانی ساخت مختلف ہے اسی اعتبار سے ان کے فرائض بھی الگ الگ ہیں ۔ چنانچہ انہیں الگ الگ دائروں میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کو سر انجام دینا چاہیے۔خواتین لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض سر انجام دے سکتی ہیں وہ عورتوں کے علاج معالجے کے سلسلے میں ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کر سکتی ہیں۔ خواتین کے لئے سلائی کڑھائی کے ادارے قائم کر سکتی ہیں غرض وہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے مختلف پیشے اختیار کر سکتی ہیں اور اس میں کوئی قیامت بھی نہیں ہے ۔

مخلوط تعلیم کے حق میں عام طور پر ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ جب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تعلیمی اداروں میں ایک ساتھ پڑھیں گے تو قدرتی طور پر ان میں جو جنسی ہیجان پیدا ہوتا ہے اس میں کمی آجائے گی ۔ لیکن یہ دلیل بھی پہلی دلیل کی طرح ہی مضحکہ خیز اور بے جواز ہے کیونکہ جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کو قریب آنے کے مواقع حاصل ہوں گے وہاں جنسی ہیجان کسی طرح بھی کم نہیں ہوگا بلکہ اس میں لازمی طور پراضافہ ہو گا ۔ مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں میں جو اخلاقی بےراہروی اور جنسی تشدد کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں وہ اس دلیل کے کھوکھلاپن کا کھلا ثبوت ہیں ۔ بعض حضرات مخلوط تعلیم کے حق میں یہ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ ہمارا ملک ایک غریب ملک ہے چنانچہ یہ بات ہمارے مفاد میں نہیں جاتی کہ عورتوں اور مردوں کے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ۔ یہ دلیل بھی حقیقت سے اتنی ہی دور ہے جتنی کہ مذکورہ بالا دلیلیں ہیں ۔ تعلیمی ادارے تو طلبہ کی تعداد کے مدِ نظر کھولے جاتے ہیں ۔ چنانچہ اگر تعلیم مخلوط ہو تب بھی عورتوں مردوں کے تعلیمی ادارے الگ الگ ہوں تو بھی اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہو سکتی ۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت

عورت بنیادی طور پر شرم و حیا  کا پتلا ہوتی ہے ۔ حیا کو بجا طور پر عورت کا زیور کہا جاتا ہے ۔ یہ عظیم صفت خواتین میں اسی صورت میں برقرار رہ سکتی ہے جب وہ غیر مردوں سے میل جول نہ بڑھائیں ۔ اس صورت میں ان کا سماجی مرتبہ اور مقام کم نہیں ہوگا بلکہ اس میں یقینی طور پر اضافہ ہوتا ہے ۔ مغربی معاشرہ میں جہاں عورت اور مرد کے آزادانہ اختلاط پر کوئی قدغن نہیں ہے ۔ مادی ترقی کے بام عروج پر ہونے کے باوجود وہاں ایسے ایسے شرمناک واقعات روزمرہ کی زندگی کا معمول بن چکے ہیں جن کو کسی سے سن کر یا پڑھ کر انسان شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے ۔ اس اختلاط کی فراوانی کی وجہ سے مغربی عورت محض ایک دل بہلانے کا پیمانہ بن کر رہ گئی ہے ۔ اس بے لگام تہذیب نے مغربی عورت کو شرم وحیا اور عفت و عصمت سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ ان اعلیٰ قدروں کا شعور ہی ان سے چھین لیا گیا ہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ شادی بیاہ کو اب وہاں محض ایک فرسودہ اور بیکار روایت خیال کیا جاتا ہے ۔


مسلمانوں کا شاندار ماضی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عورت اور مرد بےحجابانہ میل جول کے بغیر بھی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ایک دور تھا کہ اسلامی سلطنت کی حدود نہایت وسیع و عریض خطہ زمین کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے تھی ۔ اور زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں نئی نئی ایجادات اور اختراعات میں سب سے آگے تھے ۔ انہوں نے علم ، ادب اور سائنس کی نئی نئی جہتیں دریافت کیں ۔ مغرب جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا ، اسلامی تہذیب و تمدن کی روشنی سے آشنا ہوا ۔ مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں کا حصہ اس میں بہت زیادہ ہے ۔ اس دور میں مسلم خواتین بھی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت میں سرگرداں تھیں ۔ جنگوں میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا ، لباس کی تراش و خراش میں تبدیلیاں لانا ، علم کے نور کو ہر طرف پھیلانا اور خوشی اور غم میں اپنے افرادِخانہ کا مکمل ساتھ دینا ، ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکا تھا ۔ اس کے علاوہ کئی عورتوں نے قابلِ قدر تصانیف بھی چھوڑی ہیں ۔ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں کی تعداد میں نہایت نادر اور قیمتی کتابیں موجود تھیں ۔ اس خاتون نے مکہ میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لئے بغداد سے مکہ تک نہر کھدوائی جس کے نشانات اب بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ بہر حال یہ بات اسلامی تاریخ سے بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ عورت کو شمعِ محفل نہ بنانے کے باوجود قومی اور معاشرتی ترقی کی منزل کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

وہ رتبہ عالی کوئی مذہب نہیں دے گا

کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام

مغربی عورت کے مقابلے میں ایک مسلم معاشرے کی عورتوں میں اپنی شرم و حیا کے جوہر کی حفاظت کو نہایت ضروری بلکہ لازمی سمجھا جاتا ہے ۔ اس بنا پر مشرقی عورت ایک جنس ارزاں نہیں بلکہ قیمتی اور قابلِ قدر متاع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگرچہ آزادی نسواں کے نام سے مشرقی معاشرے کی اخلاقی قدروں کو تہہ و بالا کرنے کی سرتوڑ اندرونی اور بیرونی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن جب تک مسلمانوں کی مذہب کے ساتھ وابستگی اور اپنی اخلاقی قدروں کے ساتھ محبت قائم رہے گی ، کوئی بھی مذموم کوشش اپنے بےہودہ عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے گی ۔ موجودہ حالات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خواتین کے اصرار پر ان کے الگ کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں لہٰذا وثوق کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مخلوط تعلیم کا نظریہ کبھی عملی صورت اختیار نہیں کر سکے گا ۔ اور یہی ہماری قوم اور ملک کے لئے درست اور صحیح راہ ہے ۔

مانگے کی روشنی سے نہ پاؤ گے راستہ

اس تیرگی میں لے کے خود اپنے کنول چلو