Friday, 8 October 2021

Essay on Environmental Pollution (ماحولیاتی آلودگی) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

ماحولیاتی آلودگی پر مضمون  – 2000  سے زائد الفاظ

کرۂ ارض پر بے شمار قدرتی اور غیر قدرتی عوامل کی باہمی جنگ کے باعث ہمارا ماحول مسلسل تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔'منفی اثرات کے قدرتی عوامل کا حل تو خود قدرت کے پاس موجود ہے 'مگر وہ غیر قدرتی عوامل جو انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ظہور میں آتے ہیں ،ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت صنعتوں کا جال بچھ چکا ہے ،فاصلے سمٹ گئے ہیں ،سالوں اور مہینوں کے کام گھنٹوں اور منٹوں میں ہونے لگے ہیں ۔ مگر یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ جیسے جیسے انسان ترقی کی منازل طے  کرتا جا رہاہے ،فطرت تباہی کی طرف بڑھتی جا رہی ہے ۔ چنانچہ ہمارا فطرتی ماحول ایسی غیر فطرتی کثافتوں سے آلودہ ہو رہا ہے ، جن کےاثرات ناقابل تلافی ہیں ۔

وہ تمام طبعی،حیاتیاتی اور کیمیائی عناصر جو انسانی سرگرمیوں کی بدولت ماحول کا حصہ بن کر اسے آلودہ کرتے ہیں "آلودہ کنندہ" کہلاتے ہیں اور ان عناصر کی بدولت ہونے والی منفی ماحولیاتی تبدیلیوں کو "ماحولیاتی آلودگی " کہا جاتا ہے ۔ ذیل میں ماحولیاتی آلودگی کی مختلف قسموں اور ان سے بچاؤ کی تدابیر کا ذکر کیا جاتا ہے ۔


فضائی آلودگی:

ماحولیاتی آلودگی کی پہلی قسم فضائی آلودگی ہے ۔ کرۂ ارض کے گرد مختلف گیسوں کا ایک غلاف موجود ہے۔ نائٹروجن ،آکسیجن ،کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسیں اس غلاف میں ایک خاص تناسب سے شامل ہیں۔ جدید صنعتی و سائنسی دور کی بدولت لاتعداد گاڑیوں کے انجنوں سے نکلنے والا دھواں اور کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں اور نقصان دہ گیسیں اور بخارات فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ زہریلی گیسیں انسانوں ہی کو نہیں ، نباتات تک کو متاثر کرتی ہیں۔

معدنی ایندھن یعنی پٹرول ، ڈیزل، موبل آئل ، مٹی کا تیل اور کوئلہ کا استعمال توانائی حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے جلنے سے کاربن اور نائٹروجن کے ساتھ گندھک (سلفر) کے آکسائیڈ خارج ہوتے ہیں اور دیگر کیامیائی مرکبات کے ساتھ مل کر ضرر رساں مرکبات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔موٹر گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پٹرول میں سیسے کا ایک مرکب شامل کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس پٹرول کے جلنے سے سیسے اور کاربن کے ذرات سیاہ دھوئیں کی شکل میں خارج ہوتے ہیں۔ یہ دھواں فضا میں پھیل جاتا ہے اور مختلف بیماریوں کا موجب بنتا ہے ۔ گردوغبار بھی فضا کو آلودہ کرنے والا ایک اہم عنصر ہے ۔ کچے راستوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پرگاڑیوں کی آمدورفت سے جو گرد اٹھتی ہے ، اس سے ساری فضا آلودہ ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے نظامِ تنفس، آنکھوں اور جلد کی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ معدنی ایندھن کے جلنے سے خارج ہونے والی گیسیں فضا میں موجود گرد کے ذرات اور دیگر کیمیائی و آبی بخارات کے ساتھ مل کر ایک زہریلی دُھندھ پیدا کر دیتے ہیں ، جو نہ صرف جاندار اشیاء اور نباتات کو نقصان پہنچاتی ہے ، بلکہ فضائی اور زمینی ٹریفک کے حادثات کا باعث بھی بنتی ہے ۔

معدنی ایندھن کے بے تحاشا استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار قدرتی توازن سے بڑھ کر گیسی غلاف میں ایک موٹی تہہ کی صورت میں جمع ہو جاتی ہے ، جو سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والی حرارت کو اس غلاف سے باہر نہیں نکلنے دیتی ۔ اسی اثر کے باعث کرۂ ارض کے اوسط درجہ ٔ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ تمام دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیاں لانے کا باعث بن سکتا ہے ۔

فضائی آلودگی سے بچاؤ کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ معدنی ایندھن کا متبادل تلاش کر کے فضائی آلودگی پیدا کرنے والے عناصر سے نجات حاصل کی جائے ۔ اس سلسلہ میں شمسی توانائی اور پانی اور ہوا کی توانائی سے کام لیا جا سکتا ہے ۔ صنعتی کارخانوں سے جو گیسیں خارج ہو کر فضائی آلودگی پیدا کرتی ہیں ، ان گیسوں کو معالجے کے ذریعے مضر اجزاء سے پاک کیا جائے اور تمام صنعتی اداروں کے لیے ایسا کرنا لازمی ہو ۔ موٹر گاڑیوں میں سیسے سے مبرّا پٹرول کے استعمال کو ترجیح دی جائے ، گاڑیوں کے انجنوں کی بر وقت سروس کرائی جائے اور دھواں دینے والی گاڑیوں پر پابندی لگا دی جائے ۔ جہاں کارخانوں کی تعداد زیادہ ہے ، وہاں کثرت سے درخت لگائے جائیں ، کیونکہ درخت فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن خارج کرتے ہیں ۔ نیز کارخانے آبادی سے زیادہ فاصلہ پر لگائے جائیں اور فصلوں پر کیڑے مار دواؤں کے سپرے میں احتیاط سے کام لیا جائے ۔

آبی آلودگی :

پانی قدرت کا ایک ایسا عطیہ ہے ، کہ جس کے بغیر انسانی زندگی کی بقاء ناممکن ہے ۔ پانی چونکہ بہترین محلل ہے، اس لیے اکثرکثافتیں اس میں حل ہو کر پانی کو آلودہ کر دیتی ہیں ۔ جس سے آبی جانداروں کے علاوہ خشکی کے جانداروں، انسانوں اور نباتات پر بھی مضر اثر پڑتا ہے ۔ تمام صنعتوں میں پانی بڑی کثرت سے استعمال ہوتا ہے ۔ صنعتی استعمال کے بعد فالتو پانی حل پذیر اور کیمیائی مادوں کے ساتھ قریبی جوہڑوں ، ندی نالوں اور دریاؤں میں بہا دیا جاتا ہے ، جس سے زراعت اور معاشیات پر مضر اثر پڑتا ہے ۔ ندی نالوں اور دریاؤں میں مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے اور آلودہ پانی کو آبپاشی کے لیے استعمال کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا ، کیونکہ اس میں شامل مضر کیمیائی مرکبات پودوں کی جڑوں کے ذریعے پودوں میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ ایسی فصلوں کا بطور خوراک استعمال کئی مہلک بیماریاں پیدا کر سکتا ہے ۔

شہری علاقوں کا تمام آلودہ اور گندہ پانی بھی بغیر صاف کیے کسی قریبی نالے یا دریا میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ یہ آلودہ پانی جب زیریں علاقوں میں آبپاشی اور پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کی آلودگی انسانی صحت اور زراعت پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ زیر زمین پانی بھی انہی کثافتوں کی بدولت آلودہ ہوتا ہے ۔ کیمیائی فاضل مائع مواد اور ساحلی علاقوں کی بدروؤں کا گندہ پانی بھی سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ جس سے سمندر کا پانی بھی آلودہ ہو جاتا ہے ۔ سمندروں سے معدنی تیل کی نکاسی ، ترسیل اور آمدورفت کے دوران ٹینکروں سے رسنے والا تیل بھی سمندری آلودگی کا باعث بنتا ہے ۔ اس آلودگی سے ساحلی علاقے بھی متاثر ہوتے ہیں اور یہ سمندری جانوروں کے لیے بھی مہلک ثابت ہوتی ہے ۔

ملک میں پینے کے پانی کی قلت ہونے کی وجہ سے بیشتر دیہی علاقوں میں کنوؤں ، ندی نالوں ، نہروں اور دریاؤں کا پانی استعمال کیا جاتا ہے ، جو اکثر صورتوں میں آلودہ ہوتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں لوگ کئی مہلک اور وبائی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ایک انداز کے مطابق پاکستان میں چالیس فیصد اموات صرف آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔

آبی آلودگی سے بچاؤ کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ پانی کا استعمال کرنے والی صنعتیں آلودہ پانی کی صفائی کے انتظامات کریں اور انہیں قانونی طور  پر اس امر کا پابند کیا جائے کہ وہ آلودہ پانی کو صاف کیے بغیر ندی نالوں یا دریاؤں میں ٹھکانے نہ لگائیں ۔ اس کے ساتھ ہی چھوٹے بڑے شہروں میں گندے پانی کی نکاسی کے انتظام کو بہتر بنایا جائے اور اس پانی کو بھی آلودگی کم کیے بغیر ندی نالوں اور دریاؤں میں نہ پھینکا جائے ، تو اس سے آبی آلودگی میں خاصی کمی واقع ہو سکتی ہے ۔

زمینی آلودگی :

فضا اور پانی کوآلودہ کرنے والے عوامل زمینی آلودگی کا باعث بنتے ہیں ۔ صنعتوں کا ٹھوس یا نیم ٹھوس فاضل مواد اور رہائشی علاقوں کی کوڑا کرکٹ بھی زمینی آلودگی پیدا کرتے ہیں ۔ زراعت اور بار برداری کے لیے استعمال ہونے والے مویشیوں کا فضلہ اور دوسری گندگی بھی آلودگی پیدا کرنے کا ایک سبب ہے۔ ان عوامل میں سے بعض تو جلد ہی قدرتی عوامل کی بدولت تحلیل ہو جاتے یا ٹھکانے لگ جاتے ہیں ، مگر بعض قدرتی عوامل سے بھی ٹھکانے نہیں لگتے ، مثلاً پلاسٹک کی مصنوعات وغیرہ ، کہ ان کو ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام قدرتی عوامل میں شامل نہیں ہے ۔ بعض دفعہ کوڑے کرکٹ سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس کے ڈھیروں کو جلا دیا جاتا ہے  ۔ اس طرح پیدا ہونے والا دھواں فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے ۔ موجودہ صنعتی دور میں ایسی اشیاء اور مصنوعات کا استعمال عام ہو گیا ہے ، جو ناقابلِ تحلیل مادوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور ان کو ٹھکانے لگانا ایک گھمبیر مسئلہ بن گیا ہے ۔ بعض اوقات صنعتوں کے ٹھوس یا نیم ٹھوس فاضل مواد کو زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے ، جس سے اس کے مضر اثرات زیر زمین پانی میں سرایت کر جاتے ہیں ۔

زمین کی آلودگی سے بچاؤ کے لیے لازم ہے کہ گھریلو کوڑے کرکٹ ، تجارتی علاقوں ، گلی کوچوں اور عوامی اداروں کے ٹھوس فاضل مواد کے نامیاتی مادوں کو علیحدہ جمع کر کے گیس پلانٹ کے ذریعے اس سے توانائی حاصل کی جائے ۔ نامیاتی مادوں کو مناسب اصلاح کے بعد بطور قدرتی کھاد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


جنگلات قدرت کا بیش بہا خزانہ بھی ہیں اور ماحول کو آلودگی سے صاف رکھنے کا قدرتی کرخانہ بھی ۔ جہاں جہاں درختوں کی بے دریغ کٹائی سے جنگلات کے رقبہ میں کمی آتی ہے ، وہاں زمین بُردگی کا شکار ہونے لگتی ہے ، جس سے قابلِ کاشت اراضی میں کمی آتی جاتی ہے اور آبی ذخائر بھی نہ صرف کم بلکہ آلودہ بھی ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ جنگلاتی رقبہ کی مکمل کٹائی کو فوری طور پر بند کر کے پٹیوں کی شکل میں کٹائی کی جائے ۔ لکڑی کے متبادل ایندھن کے استعمال سے بھی جنگلاتی رقبہ میں کمی کو روکا جا سکتا ہے ۔ زرخیز یا نیم زرخیز زمین کو خالی چھوڑ دینے کی بجائے اس پر درخت لگائے جائیں اور آبادی میں اضافہ کے باعث زمین اور جنگلات کو بے تحاشا رہائشی آبادیوں میں تبدیل کرنے کی بجائے زرخیز زمین کو صرف زراعت کے لیے رہنے دیا جائے اور رہائشی علاقوں کے لیے بنجر یا ناقابلِ کاشت اراضی سے استفادہ کیا جائے ۔

شور کی آلودگی :

شور ناپسندیدہ، بلند اور بے ہنگم آوازوں کا نام ہے ۔ ریڈیو ، ٹیلی ویژن ، لاؤڈ سپیکر ، موٹر گاڑیاں ، صنعتی مشینیں وغیرہ بے حد شور پیدا کرتی ہیں ۔ یہ شور آس پاس کے افراد پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ آواز کی شدت کی پیمائش کا بنیادی پیمانہ " ڈیسی بل " کہلاتا ہے اور انسانی کان 90 ڈیسی بل تک کی آواز بغیر تکلیف کے سن سکتا ہے ۔ جبکہ اس سے زائد شور انسانی صحت کے لیے ضرر رساں ہے ۔ اگر کوئی شخص مسلسل آٹھ گھنٹے 90 ڈیسی بل شور کی فضا میں رہے تو وہ بہرہ ہو سکتا ہے ۔ جبکہ 160 ڈیسی بل شور کی مقدار کا کوئی اچانک دھماکہ انسان کو مکمل طور پر بہرا بنا سکتا ہے ۔ بڑے شہروں کے مصروف چوکوں میں دن کے وقت شور کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے ، جبکہ ہوائی اڈوں اور بعض کارخانوں میں آواز کی بلندی 80 سے 120 ڈیسی بل تک ہوتی ہے ۔ شور نہ صرف پُرسکون ماحول میں خلل کا باعث بنتا ہے ، بلکہ انسانی نفسیات اور صحت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے ۔ پرشور ماحول میں روزانہ مسلسل کئی گھنٹے گزارنے والے افراد مختلف اعصابی و قلبی امراض میں مبتلا ہونے کے علاوہ بہرے پن کا شکار بھی ہو سکتےہیں ۔

اگرچہ شور کی آلودگی کا مکمل انسداد نہیں کیا جا سکتا ، تاہم اس میں ممکنہ حد تک کمی ضرور کی جا سکتی ہے ، اور اس ضمن میں ناگزیر ہے خواہ مخواہ شور پیدا   کرنے کا موجب نہ بنا جائے ۔ تمام قسم کی گاڑیوں اور ان کے سائلنسروں کو درست حالت میں رکھا جائے اور زیادہ شور پیدا کرنے والے کرخانوں میں باقاعدہ شور جذب کرنے والے آلات نصب کیے جائیں ۔ عمارات کی تعمیر میں ایسا مواد استعمال کیا جائے جو گونج پیدا کرنے کی بجائے آواز کو جذب کر سکے ۔ ہوائی اڈوں ، ریل کی پٹڑیوں، سڑکوں اور کارخانوں کے اردگرد کثرت سے درخت لگائے جائیں ، کیونکہ درخت قدرتی طور پر شور کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

ماحولیاتی آلودگی کے دیگر عوامل :

مندرجہ بالا عوامل کے علاوہ کئی اور عوامل بھی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتے ہیں ، جن میں تابکاری مادے سرفہرست ہیں ۔ ایٹمی توانائی کا استعمال موجودہ دور میں تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ نیوکلیئر پلانٹ اور ایٹمی بجلی گھروں کے فضلات میں بیکار تابکار مادے شدید تابکاری شعاعیں خارج کرتے ہیں ۔ ان فضلات کو انتہائی محفوظ طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ایٹمی دھماکوں یا تجربات سے بھی شعاعی آلودگی پھیلتی ہے ۔ ایکس ریز اور الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کا زیادہ استعمال بھی جدید تحقیقات کے مطابق جسم میں کئی امراض پیدا کرتا ہے ۔

آبادی میں حد سے زیادہ اضافہ بھی ماحولیاتی آلودگی کا ایک سبب ہے ۔ آبادی میں بے تحاشا اضافہ کے باعث قدرتی وسائل پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور خوراک کی قلت شدید ہو گئی ہے ۔ بے گھر اور بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بڑھتی ہوئی کچی آبادیاں ماحولیاتی آلودگی کا بھیانک منظر پیش کرتی ہیں ۔ اسی لیے تمام اقسام کی آلودگی کا بنیادی سبب اضافۂ آبادی کو گردانتے ہوائے عالمی سطح پر آبادی کی شرح کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

انسان کا ماحول اس کی فطرت کی عکاسی کرتا ہے ۔ صحت مند انسانوں ہی سے صحت مند معاشرہ جنم لیتا ہے اور صحت کی قیمت پر کوئی ترقی بھی صحیح معنوں میں ترقی نہیں کہلا سکتی ۔ چنانچہ ہمارا فرض ہے کہ ماحولیات کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے پانی ، توانائی اور باقی سب وسائل کو کفایت سے استعمال کریں ۔ بصورتِ دیگر ہماری آنے والی نسلوں کے لیے تباہ شدہ ماحولیاتی نظام ہی باقی بچے گا اور کچھ نہیں !