Saturday, 13 November 2021

Essay on Ethics and Life (ادب اور زندگی) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

ادب اور زندگی پر مضمون – 1800 سے زائد الفاظ

مختلف ادوار میں ادب کےبارے میں مختلف نظریات رہے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ جب ہر تحریر کو ادب کہا جاتا تھا ۔ پھر لغوی اعتبار سے ادب سے مراد ہر لفظ لیا جانے لگا ۔ ادب کی یہ تعریف مغربی افکار کے اثرات کے تحت بیان کی گئی تھی ۔ کیونکہ انگریزی میں ادب کے لئے لفظ لٹریچر استعمال کیا جاتا ہے اور انگریزی لٹریچر کا لفظ اس پرچی کے لئے استعمال ہوتا ہے جو دوا کی شیشی کے ساتھ ڈبیا میں بند ہوتی ہے اور جس پر دوا کی ترکیب استعمال درج ہوتی ہے ۔ ایسے لٹریچر میں سیاسی ادب اور قانونی ادب بھی شامل ہے لیکن جب ہم ادب کو علم اور فن کی حیثیت میں دیکھتے ہیں تو پھر دوائی کے ترکیب استعمال کی پرچیاں ، حکمت کے نسخے ، سائنس کے کلیے اور قاعدے اور قانونی تحریریں سب کچھ دائرہ ادب سے خارج ہو جاتا ہے تاہم پھر بھی ادب کا تصور واضح نہیں ہوتا ۔

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

ادب کے متعلق کسی بھی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے ۔ سب سے پہلے اس امر کا تعین ہی مشکل ہے کہ ادب فن ہے یا علم ۔ پھر فن اور علم کے درمیان کون سا فرق واضح ہے ؟ مغرب کے نقادوں نے فن اور علم کے درمیان اس فرق کو واضح کرنے کی سعی کی ہے ۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں رہے ۔ کیونکہ ادبیات کی تاریخ میں مورخوں ، فلسفیوں اور سائنسدانوں کا بھی ذکر موجود ہے ۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے ادبیات میں برکلے ، ہیوم نیوٹن ، بیکس ، فرائڈ ، ڈارون کا ذکر ملتا ہے ۔ کیا یہ سب عالم سائنسدان تھے یا ادیب ؟ اب علماء کو تاریخ ادبیات میں اس لئے جگہ دی گئی کیونکہ مغربی علماء کے نزدیک تہذیب ، انسانی فکر کی تاریخ ہے اور ادب ، انسانی فکر کا ایک مخصوص نقطہ نظر سے مطالعہ کا نام ہے ۔ لہذا انہوں نے فن اور علم کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے بیان کیا تو کہا کہ علم انسانی ذہن اور فکر کو مخاطب کرتا ہے جبکہ ادب انسانی جذبات و احساسات سے خطاب کرتا ہے اور انہیں متاثر کرتا ہے یعنی علم منطق کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ جب کہ ادب وجدان اور تخیل کی روشوں پر گامزن ہے ۔


مشہور مغربی نقاد آئی اے رچرڈ نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ادب وہی ہے جو ہماری زندگی کا عکاس و ترجمان ہے جو ہمارے جذبات و احساسات کو متاثر کرتا ہے اور ان کو آسودگی فراہم کرتا ہے لہذا حسن و سلیقے سے موثر پیرائے میں خیالات کے اظہار کا نام ادب ہے ۔

عطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میں

کہ بامِ عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں

مذکورہ بالا تعریف سے واضح ہے کہ ادب اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ادب اور زندگی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے دونوں آپس میں اس طرح لازم و ملزوم ہیں کہ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور ناممکن ہے ۔ زندگی میں جو واقعات ، حادثات اور حالات رونما ہوتے ہیں ۔ ادب ان حادثات و واقعات کو نہایت سلیقے اور قرینے سے موزوں اور مناسب الفاظ میں بیان کر دیتا ہے ۔ اسی سلیقے اور قرینے اور موزونیت سے ادب میں تاثیر پیدا ہوتی ہے اور وہ قاری کے جذبات و احساسات کو متاثر کرتا ہے ۔ چنانچہ جب کسی قاری کے جذبات و احساسات متاثر ہوتے ہیں تو اعصاب میں آسودگی پیدا ہوتی ہے ۔ لہذا ادب آسودگی کے حصول کا ذریعہ ہے ۔

زندگی ایک وسیع و عریض سمندر کی مانند ہے ۔ جس میں وقتاً فوقتاً جواد بھاٹا پیدا ہوتا رہتا ہے ۔ اس سمندر میں لہریں بن آتی ہے ۔ طوفان برپا ہوئے ہیں اور کبھی مکمل سکون قائم ہو جاتا ہے ۔ ادب ان تمام حالات کا نہ صرف عکاس ہے بلکہ ان تمام واقعات و حادثات کا محافظ اور ایک اہم دستاویز ہے جس سے کسی خاص زمانے کی معاشی ، سماجی اور سیاسی زندگی کی تصویر بنائی جاسکتی ہے ۔ علاوہ ازیں ادب ان خواہشات اور آرزوؤں کے اظہار کا نام ہے جو انسانوں کے دل میں حالات کے ردعمل کے طور پر پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ خواہشات ، کائنات کی موجودہ خامیاں دور کرنے اور اسے تکمیل کا حسن بخشنے کے متعلق ہوتی ہیں ۔ جو ادیب کے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جنم لیتی ہیں ۔ ادیب جب ان خواہشات اور قلبی واردات کو ادب کے ذریعے دوسروں کے سامنے بیان کر دیتا ہے تو وہ خاص ذہنی سکون اور قلبی سکون محسوس کرتا ہے ۔ لیکن ادب میں دوامیت اس وقت جنم لیتی ہے جب اس میں زندگی کی دائمی قدروں کے ساتھ ساتھ فنی اور جمالیاتی اقدار کی بھی رنگ موجود ہوتا ہے ۔ رومی ، سعدی ، شکسپئیر ، غالب اور اقبال کی بقا اسی حقیقت کی شاہد ہے کہ جہاں انہوں نے ادب میں زندگی کے ٹھوس حقائق و حالات کو ادب کا موضوع بنایا ہے وہاں تخیلی کی رنگ آمیزی سے بھی کام لیا ہے اور فنکاری و پرکاری بھی دکھائی ہے گویا انہوں نے زندگی کے حقائق اور کائناتی سچائیوں کو فن کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ادب تخلیق کیا ہے ۔ اسی لئے ادبی دنیا میں انہیں بقائے دوام اور شہرت عام حاصل ہے ۔

یہاں یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ ادب محض واقعات و حادثات کے بیان کا نام نہیں ہے اگر زندگی میں پیش آنے والے حقائق و واقعات اور حادثات من و عن بیان کر دئیے جائیں تو وہ ادب نہیں تاریخ ہوگئی کیوں کہ تاریخ نویسی میں صرف واقعات و حادثات کا بیان اور ان کے اسباب و عمل سے بحث ہوتی ہے ۔ ادب میں واقعات کے بیان کے ساتھ تخیل کی رنگ آمیزی ، زبان کا چٹخارہ اور فنکاری بھی شامل ہوتی ہے بلکہ ادب ان واقعات و حادثات سے پیدا ہونے والے نتائج بیان کرتا ہے ۔ یہی ادب اور تاریخ کا نمایاں فرق ہے ۔ لہذا وہی ادیب ادبی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو زندگی میں پیش آنے والے واقعات و حادثات کے بیان کے ساتھ ساتھ فنی محاسن اور فنکاری کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔

شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو

جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا

ادب زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے ۔ ادب زندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہے ۔ بلکہ زندگی کی ہی عکاسی و ترجمانی کا نام ادب ہے ۔ ہر دور کا ادب اس دور کی زندگی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور اس دور کی زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ پھر آنے والے دور کا نقیب بن جاتا ہے اس لیے کوئی ادب جہاں اپنے دور کا نمائندہ اور ترجمان ہے ۔ وہاں وہ آنے والے دور میں تخلیق ہونے والے ادب کا پیامبر اور پیش خیمہ بھی ہے ۔ کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ ادب کو زندگی سے علیحدہ صرف ادب برائے ادب ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ادب کا کام ہمیں جمالیاتی خط پہنچانا اور ہمیں آسودگی فراہم کرنا ہے گویا ادب تفنن طبع کا ایک ذریعہ ہے ۔جس سے ہم فارغ اوقات میں اپنا د بہلاتے ہیں ۔ اگر ادب میں بھی وہی زندگی کی تلخیاں اور ٹھوس حقائق موجود ہیں ۔ جن سے بھاگ کر ہم ادب کی چھاؤں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں تو پھر ادب ہمارے دکھوں کا مداوا نہیں بلکہ زخموں پر نمک پاشی کا کام دے گا ۔ ایسے ادب کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جو ہمارے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے جو ہمیں راحت و آرام دینے کی بجائے تکلیف دے ۔ ہم کوئی فلم یا تھیٹر محض اس لیے دیکھتے ہیں کہ روز مرہ کی زندگی کے کاموں نے جو ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے ان کو آسودگی حاصل ہو ۔ زندگی میں پیش آنے والے واقعات نے ہمیں جو دکھ درد دئیے ہیں ۔ ان سے چند لمحوں کے لئے چھٹکارا حاصل ہو ۔ اگر فلم یا تھیٹر دیکھ کر بھی ہمارے اعصاب کو آسودگی اور ہمارے درد کو سکون نصیب نہ ہو ۔

ادب کو محض پروپیگینڈا بنانا تجارت ہے ۔ ادب میں افادیت کا تصور کفران نعمت ہے لہذا وہ فنکار جو فن کی بجائے کسی مقصد کو تلاش کرتا ہے ۔ وہ فنکار نہیں بلکہ تاجر ہے ۔ موضوع اور مواد محض اتفاقی حیثیت رکھتا ہے ۔ اصل بات تو فن اور فنکاری ہے ۔ زندگی کے ٹھوس حقائق اور کائناتی سچائیوں سے تو ہر شخص واقف ہے ۔

سب سے پہلے جس نقاد نے ادب کو زندگی کا ترجمان ٹھرایا وہ میتھیو آرنلڈ تھا ۔ اس نے ادب کو نہ صرف زندگی کا عکاس کہا بلکہ بتایا کہ ادب زندگی کا سب سے بڑا نفاذ اور مصلح ہے ۔ جب کوئی ادیب اپنے اردگرد کے ماحول میں زندگی کو بے ترتیب دیکھتا ہے ۔ زندگی کی خامیاں اس کے سامنے آتی ہیں تو وہ ادب میں ان کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ چنانچہ وہ نہ صرف ان خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ان کی اصلاح کے لئے بھی راہیں سمجھاتا ہے ۔ زندگی میں پیش آنے والے واقعات و مشکلات کو نہ صرف بیان کرتا ہے بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے ۔ اس حل کی طرف بیلغ اشارے کرتا ہے ۔ قارئین اس طرح زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل سے واقف ہوتے ہیں ۔ اس طرح ادب نہ صرف زندگی کا ترجمان ہے بلکہ زندگی کا نقاد اور مصلح بھی ہے ۔ اکبر الٰہ آبادی کے یہ شعر ملاحظہ ہوں۔

بےپردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں

اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑھ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کے پردے کو کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

ان اشعار سے نہ صرف اکبر الٰہ آبادی کے زمانے کے حالات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ بلکہ اس زمانے کے لوگوں کی سوچ ، فکر کے انداز اور عورتوں کی بودوباش اور لباس کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ شاعر نے نہ صرف اس نئی سوچ پر طنز کی ہے بلکہ اس پر تنقید کر کے اصلاح کا پہلو نکالا ہے ۔ اس مثال سے صاف ظاہر ہے کہ ادب اور زندگی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے ۔ ادب زندگی کا ترجمان و عکاس ہے بلکہ ادب زندگی کا نقاد اور مصلح بھی ہے ۔ "مجنوں گورکھپوری" لکھتے ہیں :

"ماحول ادیب کو پیدا کرتا ہے ۔ مگر ادیب ماحول کو ازسرنو تعمیر کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ ادب بیک وقت حال کی آواز اور مستقبل کی بشارت ہے ۔ سب سے بڑا ادیب وہ ہے جو حال اور مستقبل کو ایک آہنگ بنا کر پیش کرتا ہے ۔دنیا میں جتنے بڑے ادیب و شاعر گزرے ہیں وہ سب واقعات کی کثیف دنیا میں گردن تک ڈوبے کھڑے ہیں ۔ مگر ان کے ہاتھ ستاروں کو پکڑنے کے لئے آسمان کی طرف بڑھے ہوئے ہیں۔" بقول اقبال :

میری نوائے پریشان کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرم دروں مے خانہ

الغرض ادب کا موضوع زندگی ہے اور ادب زندگی کے سماجی ، معاشرتی ، تعلیمی ، اخلاقی اور سیاسی پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے ۔ اسی تنوع سے ادب میں حسن جنم لیتا ہے ۔ اس طرح ادب کے دو بڑے فرائض بنتے ہیں ۔ ایک تو وہ دکھی لوگوں کو خوشیاں اور مسرتیں فراہم کرتا ہے۔ زخمی دلوں کے لئے مرہم مہیا کرتا ہے ۔ دوسرے وہ بھولے بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھاتا ہے ۔ مسافروں کی منزل کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان کے لئے منزل کا یقین کرتا ہے ۔ علامہ اقبال کی تمام شاعری ادب کے اسی نظریے پر پوری اترتی ہے ۔ ان کا کلام جہاں زندگی کا ترجمان و عکاس ہے ۔ وہاں زندگی کا نقاد اور مصلح بھی ہے ۔ وہ دردمندان قوم کے لئے نوید مسرت ہے اور راہرونِ منزل آزادی کا راہنما بھی ہے ۔ وہ حال کا ترجمان اور مستقبل کا بشیر بھی ہے ۔ وہ لوگوں کی دھڑکنوں اور تمناؤں کا مرکز بھی ہے ۔