Wednesday, 17 November 2021

Essay on Importance of national language (قومی زبان کی اہمیت) in Urdu for all students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

 قومی زبان کی اہمیت پر مضمون –1600سے زائد الفاظ

زبان محض اظہار خیالات کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ قوم کی تمام روایات کی حامل ہوتی ہے اور اس کے بولنے والوں کو اس کے ایک ایک لفظ سے قلبی تعلق ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر ایک قومی زبان کی ترویج ہو تو اس بات کا امکان قومی ہوجاتا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان جذباتی تعلق اور گہرا ہو جائے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو زبان کو قومی زندگی میں صحیح مقام دیے بغیر قومی یک جہتی اور یگانگت پیدا نہیں کی جاسکتی ۔ قومی زبان اور علاقائی زبانوں کے اپنانے سے من حیث القوم ہمارا احساس کمتری ختم ہو سکتا ہے اور ہم میں خود اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے ۔ قومی زبان کے احیاء اور ترویج سے فکر و ذہن کی یکسانیت قائم ہو سکتی ہے اور بین الصوبائی محبت اور اپنائیت کا جذبہ بھی فروغ پاسکتا ہے ۔

جس طرح ہماری زندگی پر ہماری زبان کا گہرا اثر ہے اسی طرح ہماری زبان کا ہماری معاشرتی زندگی پر بھی نمایاں اثر ہے ۔ مگر ہم تو دوسروں کی زبان اور تہذیب اور ثقافت کے اس قدر دلدادہ ہو گئے ہیں کہ اپنی زبان و معاشرت کو اس کا جائز مقام دینے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔

"چونکہ ہم اپنی زبان کو حقیر سمجھتے ہیں اس لئے اپنی ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں ۔ ہم سے زیادہ دنیا کی کوئی زبان احساس کمتری میں مبتلا نہیں ۔ ہم میں قومی خودداری کا نام نہیں ۔ لے دے کے ہم زبان سے اسلام کی برتری کا اعلان کرتے ہیں مگر دراصل یہ ہمارا فرار ہے ۔ ہم دل سے اسلام کی برتری کے بھی قائل نہیں ہیں اگر ایسا ہوتا تو ہم ہر روز اسلام کو ایک نئے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کرتے ۔ جہاں تک ہمارا اپنی ثقافت سے تعلق ہے وہ اظہر من الشمس ہے ہمارے نئے گلی کوچوں کے نام اکثر غیر زبان میں ہوتے ہین ۔ اداروں کے نام غیر زبان میں ہیں ایسا کم ہوتا ہے کی ہم کسی مجلس میں کسی شخص کو اپنی زبان بغیر انگریزی کی آمیزش کے بولتے ہوئے سنیں ۔ "                   (ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی )

ڈاکٹر صاحب کے ان افکار سے کس کو مجال انکار ہے ؟ دراصل وہ احساس کمتری جو دور غلامی سے ہمارے اذہان پر مسلط ہے اس سے پیچھا چھڑایا نہیں جاسکا اور نہ اس اے گلوخلاصی کرائی جا رہی ہے ۔ ہم آج بھی دیس کی بنی ہوئی اشیاء کے مقابلے میں بدیسی اشیاء کو اہمیت دیتے ہیں ۔ نہ ہمیں اپنی مصنوعات اچھی لگتی ہیں نہ اپنی تہذیب و ثقافت کو مقدم جانتے ہیں ۔ ہم میں بیشتر منہ ٹیڑھا کر کے یورپی اسٹائل میں انگریزی بولتے ہیں مگر اپنی قومی زبانوں سے گریز اختیار کرتے ہیں ۔


بےشک قومی زبان احساس قومیت ابھارنے کی ایک بہت بڑی قوت ہے ۔ عوام الناس میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کے لیے اردو زبان بنیادی کردار ادا کر رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زبان کا استعمال عوام و خواص میں یگانگت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ طبقاتی امتیازات کی بیخ کنی کرتا ہے ۔

کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ یورپی زبانوں کے ذریعے علمی ترقی ممکن ہے اور فی زمانہ پاکستان میں جو ترقی ہو رہی ہے اس میں انگریزی زبان کا حصہ زیادہ ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اردو زبان کی کم مائیگی کا یہ حال ہے کہ وہ قومی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ؟ زبان کوئی کنکریٹ چیز نہیں ہق اور نہ ہی یہ کوئی مجرد شے ہے ۔ اس کی مثال تو ایک بہتے دریا کی سی ہے جس میں روانی رہے تو بہتر ہے اگر پانی بھی کسی جگہ پر کھڑا رہے تو اس میں بھی بدبو پیدا ہو جاتی ہے ۔ زبان کے دریا میں روانی اور طغیانی لانے کے لیے لاکھوں دماغوں میں جوش فکر لانا ہوتا ہے ۔

اردو زبان کے مخالفین ہر دور میں رہے ہیں ۔ سر سید کے دور میں جب اردو ہندی تنازع (1867)ہوا تو سر سید کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ ایک نئی سوچ کے ساتھ میدان میں اترے ۔ ہندو یہ چاہتے تھے کہ اردو کی بجائے ہندی کو کل ہند کی زبان کی حیثیت حاصل ہوجائے ۔ اس بحث نے بڑی خطرناک صورت اختیار کر لی مگر اردو پسند طبقے نے اس کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دیں ۔ بہت سے اہل قلم نے اس زبان کو نکھارنے اور سنوارنے کے لیے شبانہ روز خدمت کی مگر بقول شاعر

گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے

کیا اردو میں تعلیم ممکن نہیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بہت سوچا گیا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جب انگریزوں کو جدید تعلیم رائج کرنے کا خیال آیا تو انہوں نے دہلی کالج کے ذریعے اردو ہی میں ابتدا کی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور پھر جامعہ کراچی میں بھی یہی تجربہ کامیاب رہا ۔ ایک اور خام خیالی ہمارے ذہنوں کو جکڑے ہوئے ہے کہ اگر انگریزی کو ترک کر دیا گیا تو ہماری قومی دھارے میں ہمارا ارتقائی سفر رک جائے گا ۔ جب ہم دو ڈھائی سو سال انگریزی پڑھنے کے بعد جاپان کے ہمسر نہیں ہوسکے اور زندگی کے بیشتر میدانوں مین چین کا مقابلہ نہیں کر سکے تو پھر مزید بھٹکنے کی ضروریات کیا ہے ۔ اور تو اور انگریز اور انگریزی بھی جاپانی اور جاپانیوں ،چینی اور چینیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے ۔

جب چین کی وزیراعظم چواین لائی تھے تو ایک سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے ہم پاکستانیوں نے (جن کو قومی زبان اردو ہے ) ہر راستے ، سڑک اور ہر شاہراہ پر تہنیتی پیغامات کے بڑے بڑے پوسٹر انگریزی زبان میں آویزاں کر دیے ۔ سرکاری سطح پر انگریزی زبان میں انہیں کوش آمدید کہا گیا ، سپاس نامہ انگریزی میں پڑھا گیا مگر موصوف نے ہر خیر مقدم اور ہر سوال کا جواب اپنی مادری اور قومی زبان چینی میں دیا ۔ اس میں شک نہیں کہ موصوف انگریزی بڑی روانی سے بولنے مین ید طولیٰ رکھتی تھے مگر انہوں نے قومی زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا اور اس میں انہوں نے باک یا شرم محسوس نہیں کی بلکہ بلند بانگ کہا کہ "چین گونگا نہیں ہے۔"

 اعلیٰ تعلیمی سطح پر قومی زبان کی ترقی اور استعمال سے جواب تخلیق ہوتا ہے وہ عوام و خواص دونوں کے لیے قابل فہم اور قابل فخر ہے جبکہ غیر ملکی زبان عوام اور طلبا کے لیے خاطر کا سبب ہے ۔ جب تک کوئی قوم اپنی قومی زبان کو بلند درجے پر فائز کرنے کی سعی نہیں کرتی اس وقت تک اس کے افراد میں قوت اظہار اور انفرادی رنگ پیدا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی تخلیقی قوتیں اجاگر ہو سکتی ہیں ۔ افراد کے قلوب و اذہان کی تطہیر اور تربیت کے لیے قومی زبان کی تدریس و تعلیم عام ہونی چاہیے ۔ بدقسمتی سے قوم کا ایک بہت بڑا یورپ نواز طبقہ اردو زبان کے خلاف صف آراء ہے ۔ ان کالے انگریزوں کی کالی سوچ قومی زبان کی ترویج و اشاعت اور تدریس کی راہ میں سد سکندری بنی ہوئی ہے ۔ یہ اسلام دشمن اور دشمن نواز افراد اپنی سابقہ تربیت کے سبب انگریزی کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہے اور اس حد تک اس کے عشق میں گم ہو چکا ہے کہ انگریزی تہذیب و ثقافت کو تابہ ابد اپنے ملک پر مسلط دہکھنا چاہتا ہے ۔ اس کی کج فکری کا خلاصہ یہ ہے کہ اردو بےمایہ زبان ہے اور انگریزی کے سبب اس ملک کے دروبام تابناک ہو جائیں گے ۔ علامہ محمد اقبال نے اس اعتراض سے بہت پہلے ہی اس کا جواب دی دہا تھا ۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے ہے چمک تہذیب حضر کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں ریزہ کاری ہے

انگریزی زبان کی زرخیزی اور اردا کی تہی دامنی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ بات شاید فراموش کر دیتے ہیں کہ کوئی بھی زبان پہلے ہی دن اعلیٰ درجے کی اعلیٰ یا سائنسی زبان نہیں بن جاتی ۔ یہ ایک ارتقائی اور تدریجی عمل ہے اور اردو ایک اعلیٰ منصب اسی وقت حاصل کر سکتی ہے جب اسے نشونما پانے کے بھر مواقع دیے جائیں ۔

اردو کی زبان کی اہمیت و افادیت سے انکار کرنا صریحاً ناانصافی ہے ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں تحریک پاکستان کے کمزور جسم میں زندگی کی روح پھونتنے والی زبان کون سی ہے ۔

پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ

ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح

مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ

لے کے رہیں گے پاکستان ، بٹ کے رہے گا ہندوستان

اسی زبان کی وجہ سے دو قومی نظریے کو فروغ ملا ، اسی کے برتے پر برصغیر کے مسلمانوں کو جان و مال کی غیر معمولی قربانیوں پر آمادہ کیا گیا اسی زبان کا واسطہ دے کر پاکستان کے حق میں ووٹ لیے گئے ۔ غرض یہ کہ پاکستان کی تحریک میں اردو زبان نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ  پاکستان اسلام کے بعد اور کسی اور چیز کے تحفظ کے لیے وجود میں آیا ہے تو وہ اردو زبان ہے ۔ قائداعظم کی مادری زبان اگرچہ اردو نہ تھی لیکن انہیں اس بات کا درک تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے اردو کا مستحکم ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے اردو کی سیاسی اہمیت کے لیے نعرہ لگایا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی ۔

قومی زبان اردو کی اشاعت اور فروغ نہ صرف ہماری معاشرتی اور سیاسی زندگی کے لیے ناگزیر ہے بلکہ بین الاقوامی طور پر پاکستان کی سربلندی کا نشان بھی ہے ۔ یہ وقت کی آواز ہے کہ ہم قومی زبان کو اختیار اور رائج کرنے کے لیے نہایت اخلاص عمل اور دیانت داری سے کام کریں ۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے مین اس زبان کا چلن کرنا ہوگا ۔ تعلیم تجارت معیشت سیاست تکنیکی امور میں اردو سے کام لیاجانا چاہیے کیونکہ یہ اردو کا حق ہے ۔ اردو اور پاکستانیون کا تعلق دو چار برس کی بات ہے نہ نصف صدی کا قصہ ہے ۔ اس کا تو خدا کے فضل سے ہمارے ساتھ صدیوں پرانا تعلق ہے ۔ کسی شاعر نے یہ حقیقت اس طرح بیان کی ہے ۔

اب کا نہیں یہ ساتھ ، یہ صدیوں کا ساتھ ہے

تشکیل ارض پاک میں اردو کا ہاتھ ہے

یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ہمارے متعدد قلمکاروں کی بےاعتنائی کے باوصف اردو زبان حیرت انگیز ترقی کر رہی ہے ۔ وہ کون سی زبان ہے جس میں سب سے زیادہ کتابیں طبع ہوتی ہیں اور فروخت ہوتی ہے کیا پاکستان میں انگریزی اخبارات کا اشاعت کے اعتبار سے وہی درجہ ہے جو اس وقت اردو اخبارات کا ہے ؟

فی زمانہ بہت سے اہل قلم بےشمار رکاوٹوں کے باوجود اردو ترقی کے لیے دامے درمے سخنے کوشش کر رہے ہیں اور بفضل خدا اس زبان میں اب اتنی جامعیت اور وسعت پیدا ہوچکی ہے کہ وہ سائنسی مضامین سمیت جملہ علوم و فنون کی تعلیم و تدریس کا بوجھ اٹھا سکے ۔