Wednesday, 29 December 2021

Essay on Social Evils and their Remedies (سماجی برائیاں اور ان کا تدارک) in Urdu for All students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

 سماجی برائیاں اور ان کا تدارک پر مضمون – 2100 سے زائد الفاظ

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا

مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

اللہ نے اس کائنات میں انسان کو اشرف المخلوقات اور افضل الکائنات کا مرتبہ عطا فرمایا اور پھر اسے اپنا نائب بنا کر بھیجا ۔ اس کی تخلیق کا مقصد یہ تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور دوسروں کی مدد کرے۔

"اور تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمھیں بےمقصد پیدا فرمایا ، تمھیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔"


عبادت اپنے خالق کی اطاعت کا نام ہے۔ ملفوظات حضرت نظام الدین اولیاؒء میں مرقوم ہے۔

"اطاعت دو طرح کی ہوتی ہے لازمی اور متعدی، لازمی وہ ہے جس کا نفع صرف کرنے والے کی ذات کو پہنچے یہ نماز، روزہ، حج، درود اور تسبیح ہے اور متعدی وہ جس سےاوروں کو فائدہ ہو جیسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، شفقت ، صلہ رحمی وغیرہ۔ دوسری اطاعت کا ثواب بےشمار ہے۔"

درج بالا خصوصیات محاسن اخلاق میں شمار ہوتی ہیں مگر معاشرہ تو اچھے اور برے لوگوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کئی اصحاب وقتی فائدے کے لیے جرم و گناہ میں ملوث ہوجاتے ہیں اور محاسن اخلاق کو پس پشت ڈال کر زرائل اخلاق کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب انسان کا دامن ابھی بدی سے آلودہ نہ تھا اور وہ خوشی سے قدرتی گلزاروں میں رہا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر گزارا کرتا اور شکر ادا کرتا۔ خوشی سے جو چیز میسر ہوتی کھا لیتا اور دوسروں کے لئے محبت کا جذبہ بھی موجود تھا۔ اچانک گرم ہوا چلی جس کی تاثیر سے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ خود غرضی، نفرت، برائی وغیرہ نے ڈیرے ڈال لئے۔ صنعتی انقلاب، سائنسی ایجادات اور مادی ترقی نے انسانوں سے انسانیت چھین لی۔ لوگ دوسروں سے نفرت کرنے لگے اور اپنے آپ کو محتاج تصور کرنے لگے نتیجتاً لوگوں کے اخلاق بدل گئے اور غربت اور افلاس جیسی بیماریوں کے نرغے میں آگئے۔

لمحۂ موجود میں اپنے معاشرے کے کسی بھی شعبے پر نظر ڈالی جائے ہر جگہ بدنظمی، چور دروازوں کی تلاش، استحصال، مکر و فریب اور منافقت اوج پر نظر آئے گی۔  جرم و گناہ کے یہ سب کام اس قدر عمومی انداز اختیار کیے ہوئے ہیں گویا یہ لازمۂ زندگی ہیں۔ آج کل دوسرے کا حق غصب کرنے کو بھی حسن اخلاق اور دانشمندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آنکھوں سے حیا، دلوں سے خوف خدا اور زبان سے مٹھاس رخصت ہوچکی ہے برائیاں خوش نما لباس میں جلوہ گر ہیں۔ بقول مولانا الطاف حسین حالیؔ:

ہوا کچھ اور ہی عالم میں چلتی جاتی ہے

ہنر کی عیب کی صورت بدلتی جاتی ہے

عجب نہیں کہ رہے نیک و بد میں کچھ تمیز

کہ جو بدی ہے سانچے میں ڈھلتی جاتی ہے

ہمارے ملک اور معاشرے میں بہت سی بیماریوں نے جنم لیا ہے جن میں اخلاقی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ مثلاً جھوٹ، منافع خوری، چوری ڈاکہ زنی، غیبت، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ، اقرباپروری اور جہیز کی رسم وغیرہ۔

دولت کی ہوس نے ہم سے انسانی قدریں چھین لی ہیں۔ ہر کوئی حصول دولت کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ اگر یہ جدوجہد مثبت ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔

دولت بری نہیں مگر اتنا خیال رکھ

ایسا نہ ہو کہ پھر سانس نکلنا محال ہو

اسلامی اور اخلاقی قدریں دولت کمانے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت انسان کے لیے سکون نہیں اضطراب اور تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ حصول منافع اور منافع خوری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مادیت پسندی اور دولت پرستی نے منافع خوری کے ایسے طریقے ایجاد کر لیے ہیں کہ جن کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور بے حس افراد کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگتا ہے۔ دودھ میں پانی ملانا بڑا پرانا منفی حربہ ہے مگر فی زمانہ تو اشیائے خورد و نوش میں ایسی چیزوں کی ملاوٹ کی جاتی ہے جو صحت انسانی کے لیے بہت ضرر رساں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :

"جس نے ملاوٹ کی پس وہ ہم میں سے نہیں"

مگر حدیث پاک سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے لوگ حصول زر میں تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں۔ اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں اور انسانیت کے لیے کلنک کا ٹیکہ بن جاتے ہیں۔

منافع خور راہ نیک و بد کب دیکھ سکتا ہے

آئے دولت تو عقل و ہوش کی بینائی جاتی ہے

کم تولنے کی بے ایمانی نے بھی ہمارے سماجی نظام میں بڑی خرابیاں پیدا کر رکھی ہیں۔ اس عمل نے ایک آرٹ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جو اس آرٹ میں ہاتھ کی صفائی نہیں دکھا سکتا ہے وہ ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔

یہی انداز دیانت ہے تو کل کا تاجر

برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

ایک اور سماجی برائی اقرباپروری ہے یہ بیماری ہمارے سماج کے جسم پر کوڑھ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جو لوگ کسی بڑے عہدے پر پہنچ جاتے ہیں وہ اپنے خونی رشتے داروں اور سیاسی رشتے داروں کو نوازنے کے لیے بےتاب رہتے ہیں اور یوں کئی چور دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ ایک تو اہل لوگوں کا حق مارا جاتا ہے اور دوسرا ناہل افراد منصب کی کرسی پر متمکن ہو کر نمرودیت دکھانا شروع ہوجاتے ہیں۔ استحصالی معاشرے کی یہ خرابی اخلاقی قدروں کے تریاق سے رفع ہوتی ہے مگر جہاں دگر گوں ہورہے ہیں اور ستاروں کی گردش تیز ہے بقول وارث شاہ

باغاں اندر کاں پئے کلول کردے کوڑا پھولنے دے اُتے مور کیتے

وارثؔ شاہ دن ہور دے ہور ہوئے نیکی چپ بیٹھی بدی شور کیتے

قائداعظم کی دور رس نگاہوں نے پاکستان کے حسن کو گہنانے والے عنصر اقرباپروری کے سنگین نتائج سے اہل پاکستان کو بچانے کے لیے اس کے مضر اثرات سے قبل از وقت انتباہ کر دیا تھا۔ مگر ہم نے اس نصیحت کی پروا نہیں کی نتیجتاً اس عنصر نے  ہمارے معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جو لوگ کسی بڑے منصب پر متمکن ہوجاتے ہیں وہ اپنے خونی رشتے داروں، سیاسی رشتے داروں اور ہم نوالہ وہم پیالہ افراد کو نوازنے کے درپے رہے ہیں۔ ان کی نااہلیت کو اہلیت میں تبدیل کردیا جاتا ہے جس کے سبب متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پھر یہ لوگ جیسے خود آئے ہوتے ہیں ویسے ہی دوسروں کو لانے کی کوشش میں ہوتے ہیں یوں نااہل کارکنوں کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔ چور دروازے، خویش پروانہ نقب زنی، راشیانہ سوچ اور مرتشیانہ نظر اندازی کے مذموم خصائص ہمارے معاشرے میں دراڑیں ڈال کر اسے کھوکھلا کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

تمام سیاسی، اقتصادی، سماجی، عائلی اور مذہبی کوتاہیوں کی اساس جھوٹ ہے۔ اگر معاشرے سے جھوٹ ختم ہوجائے تو کئی بیماریوں کا خودبخود قلع قمع ہوجائے گا۔ فی زمانہ جھوٹ کا طوطی ہر طرف بولتا نظر آتا ہے یہاں تک دس آدمیوں میں اگر نو افراد جھوٹ بولنے والے ہوں اور ایک سچ بولنے والا ہو تو جھوٹ لوگ سچے کو جھوٹا ثابت کردیں گے۔

"جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔" (حدیث نبوی ﷺ)

جھوٹ کے لبادے میں کئی باتیں بڑی دلکش اور حسین نظر آتی ہیں مگر جب حقیقت آشکار ہوتی ہے تو وہی ناپسند ہی نہیں قابل نفرین ہوجاتی ہے۔

رنگت ثمر کی دیکھ کے للچا رہا ہے کیوں

اس دلفریب چھال میں گودا غلیظ ہے

صداقت اور صداقت شعاری بہت بڑی نعمت ہے۔ اس سے انسان کو اطمینان قلب کی دولت نصیب ہوتی ہے اور دوسروں کی نگاہوں میں بھی قابل تکریم ہوتا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:

سچائی نجات دیتی ہے اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے۔

کذب بیانی اور دروغ کوئی سے انسان وقتی طور پر تو بچ جاتا ہے مگر اس کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ایک جھوٹ سچ ثابت کرنے کے لیے اسے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ جھوٹ اور مومن کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا "مومن جھوٹ نہیں بول سکتا۔"

جہیز ایک بہت لعنت ہے اور سب سے بڑی سماجی برائی ہے۔ اس سے خاندان کے خاندان تباہ ہوجاتے ہیں۔ ایک معاشرتی مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے۔ جہیز مقصد یہ تھا کہ نئے خاندان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے مگر یہ مقصد جلب منفعت، زرپرستی اور نمودونمائش کی نذر ہوچکا ہے۔ والدین اپنی بیٹی رخصت کرتے ہوئے اپنا جگر دو لخت کرتے ہیں مگر طمانیت کے اس احساس سے سرشار ہوتے ہیں کہ وہ معاشرے کو ایک تربیت یافتہ ماں دے رہے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ لالچ کی عینک سے دیکھنے والے، مادیت پرست اور مغرب زدہ اصحاب کے تقاضے زرومال، دھن، دولت اور منصب و جاہ کے گرد گھومتے ہیں۔

جہیز میں دولت کا تصور برصغیر میں ہندو معاشرے کی دین ہے۔ ہندو بنیاد ھن ونتی اور مایہ دیوی کی پوجا پاٹ میں یقین رکھتی ہے اسی لے لکشمی کے چرنوں (دیوی کے قدموں) میں سر رکھ کر دولت دولت پکارتی ہے۔ اب کچھ نام نہاد مسلمان بھی "بنیا ذہنیت" کے حامل ہیں۔

تو باپ ہے تو ذرا غور کر اُن کے کرب پر

جہیز نے ڈس لیا ہو جن کی بیٹیوں کا شباب

اس کے سد باب کے لئے سب کو قدم اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ اس سے دوسری برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ انسان اپنی اولاد کا پیٹ بھرنے کے لیے حرام کماتا ہے اور پھر اولاد نافرمان ہوتی ہے۔ حرام کمانے سے انسان کو وقتی سکون حاصل ہے مگر ابدی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ قرآن اور حدیث سے واضح ہے کہ رشوت لینے والے انسان کیلئے جنت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

"رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا جہنمی ہیں۔"

حرام کمانے سے ہمارے معاشرے میں عدم توازن ہوتا ہے۔ امیر اور غریب میں خاصہ فرق آجاتا ہے زیادہ تر لوگ جو امیر ہیں امیر تر ہوتے جارہے ہیں وہ رشوت اور برے کاموں میں پھنسے ہوتے ہیں اور اللہ نے ان کی رسی کو ڈھیل دی ہے اور جب ان سے پوچھ ہوگی تو ان کے حال کو کوئی نہیں جانتا۔

"جب تمھارا دل گناہ کے کاموں میں لگنا شروع ہو تو جان لو کہ خدا تم سے ناراض ہے"

(حضرت علی المرتضیٰؓ)

مفلسی اس معاشرے میں بہت بڑھ گئی ہے۔ افلاس ایسی بیماری ہے جو انسان کو بالکل اپاہج بنا دیتی ہے۔ وہ کسی کام کے قابل نہیں رہتا۔ یہ مفلسی ہی ہے جو لوگوں کو برے کاموں کی طرف مائل کرتی ہے۔

مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے

بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی

غربت اور مفلسی ہی انسان کو ظلم کے خلاف لا کھڑا کرتی ہے اور انسانی تگ و تاز کو دہشت گردی کے زُمرے میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ دہشت گردی بڑا سماجی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ اس سماج میں جہاں مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہاں انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے۔ حالانکہ انسان کے ہوتے ہوئے انسان کا یہ حال نہیں ہونا چاہیئے۔

انساں کے ہوتے ہوئے انساں کا یہ حال

دیکھا نہیں جاتا مگر دیکھ رہا ہوں

خود غرض اور لالچی انسان سانپ کی طرح ہے جو دوسرے انسان کو ڈس لیتا ہے۔ انسان جب کسی کو تکلیف دیتا ہے تو وہ بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ موجودہ دور میں سانپوں کو قید کردیا گیا ہے کیونکہ اب انسان کو ختم کرنے کیلئے انسان ہی کافی ہے۔

انسان انسان کو ڈس رہا ہے

سانپ بیٹھا ہنس رہا ہے

جنگل کا قانون رائج ہوگیا ہے اور وہ جو انسان کو دوسرے انسان کی مدد کے لئے بنایا تھا اب وہ ایک درندے سے کم نہیں ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا پاکستان اب دہشت گردی کی زد میں ہے اور یہاں پر تو مسلمانوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔ جبکہ مسلمان نہ تو ظلم کرتا ہے اور نہ ہی کسی پرتشدد کرتا ہے۔

"مسلمان نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی کوئی زیادتی کرتا ہے جو شخص کسی کی حاجت پوری کرے گا، قیامت کے دن اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا"  (حدیث)

جن لوگوں کو معاشرے میں پورے حقوق نہیں ملتے وہ دہشت گردی کو اپنی منزل سمجھتے ہیں اور گورنمنٹ کو پامال کرتے ہیں۔ جس سے گلیاں ویران اور سنسان ہوجاتی ہیں کوئی شخص گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتا۔ ان تمام برائیوں کی بڑی وجہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے منہ موڑ چکے ہیں اور اسلام جو کہ مکمل ضابطہ حیات ہے اس کو چھوڑ کر مغرب کی پیروی کرنے لگ گئے ہیں۔ جبکہ مغرب صرف یہی چاہتا ہے کہ ہم اسلام سے دور ہو جائیں اور زوال و ادبار ہمارا مقدر بنے۔

اگر اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کیا جائے تو تمام اخلاقی اور سماجی برائیوں کا سد باب کہا جاسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سفارش بہت بڑی برائی ہے جس سے ذہین اور قابل لوگ ہمیشہ بری نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اور جن کی سفارش آجائے ان کو ہی عہدے پر فائز کیا جاتا ہے۔ کتنے ہی قابل لوگ ڈگریاں لے لے کر بھاگتے ہیں مگر پھر بھی ان کو ملازمت نہیں ملتی۔

عشقِ لیلائے سول سروس نے مجھ مجنوں کو

اتنا دوڑایا کہ لنگوٹی کر دیا پتلون کو

سفارش کا سد باب اسی طرح ہوگا کہ خاموشی کاگنبد توڑدیا جائے اور ظلم کے خلاف آواز حق اٹھائی جائے۔ "خاموشی کا بائیکاٹ" کردیا جائے کیونکہ ظلم زیادہ دور تک نہیں رہتا۔ اگر ظلم بڑھتا ہی چلا جائے تو اس کو ختم ہونا ہوتا ہے۔

چپ رہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن

کچھ نہ کہنے میں بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

رشوت بھی سفارش کی مانند ایک گھناؤنا عمل ہے جو معاشرے کے رگ و پے میں زہریلے خون کی طرح سرایت کرکے پورے نظام انسانیت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اسی کی بدولت ظالم کو پناہ ملتی ہے اور مظلوم کو ظلم سہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسی فعل بد کی وجہ سے بااثر افراد حق اور ناحق کو حق ثابت کردیتے ہیں۔ یہ رشوت کبھی نقدی کی صورت میں ہوتی ہے کبھی ہدیہ و تحفہ کی شکل میں۔ لذت کام و دہن اور جنسی تسکین کے سامان بھی رشوت کے ہی روپ ہیں۔ نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے۔

"رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں"

ہمارے معاشرے کے وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات سے روگردانی اختیار کرتے ہیں وہ رشوت کے چلن میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں اور ببانگ دہل یہ کہتے ہیں۔

رشوت لیتے جو پکڑا گیا ہے

رشوت دے کر چھوٹ جائے گا

القصہ ہمیں چاہئے کہ قرآن اور حدیث کی تعلیمات پر عمل کریں تاکہ ہم ان چھوٹی چھوٹی بیماریوں کو ختم کرسکیں۔ ہمارے اسلاف نے اس طرح عزت کمائی تھی کہ انہوں نے حق دار کو اس کے حق سے محروم نہیں کیا تھا۔ کسی کا استحقاق مجروح نہین کیا اور اپنے حق پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔ اپنے اب و جد کے راستوں پر چل کر ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

ہم نشیں کہتا ہے، کچھ پروا نہیں اگر مذہب گیا

میں یہ کہتا ہوں کہ بھائی یہ گیا تو سب کچھ گیا