Sunday, 9 January 2022

Essay on Hazrat Muhammad S.A.W. as the benefactor of humanity ( حضرت محمد ﷺ بحیثیت محسنِ انسانیت) in Urdu for All students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

 حضرت محمد ﷺ بحیثیت محسنِ انسانیت

میری نوکِ قلم پر جس مقدس اور حسین و جمیل ہستی کا نام آیا ہے کہ لفظوں کے اندھیرے سے کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ میرا قلم نبی اکرمﷺ کے اوصافِ حمیدہ بیان کرنے سے عاجز ہے۔ آپﷺ کی پاک ذات میرے تخیلات سے بہت بلند ہے۔ بقول شاعر:

وصفِ نبی ﷺ قلم سے رقم کیسے ہوسکے

میرے تخیلات سے اونچی ہے اُنؐ کی ذات

حضورﷺ کی ذاتِ مقدس کی ثناء و توصیف تو بہت بڑی بات ہے۔ مجھ عاجز سے کوئی بات بھی ڈھنگ سے ادا نہیں ہوتی۔ بقول اسلم کولسری:

یہاں تو کوئی بات بھی ڈھنگ سے ادا ہوئی

حضورؐکی ثنا تو پھر حضورؐ کی ثنا ہوئی

آپ ﷺکی تعریف و ثنا کے لئے تو بڑے عالم، مفکرین، فلسفی اور زبان و ادب کے ماہرین اپنی علمیت اور قابلیت کو آپ ﷺکے مقام و مرتبے کی تعریف و توصیف کرنے کے لئے نہایت کم تر اور محدود سمجھتے ہیں۔ جب خالق کون و مکان اور مالک دو جہاں آپﷺ کی شانِ اقدس بیان کرتا ہے تو ہم انسانوں کی کیا حیثیت اور اوقات ہے۔

لیکن دوسری طرف آپ ﷺ کی تعریف و توصیف میں میری نجات پنہاں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعریف اور مدح سرائی تو اسی کو زیبا ہے، جو آپؐ کے نام پر ہزاروں مرتبہ قربان ہونے کے لئے تیار ہے۔ اس شخص کا طرزِ زیست، اس کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، لین دین، دینی اور کاروباری معاملات آپؐ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق ہوں۔ بہر حال محسنِ انسانیت ﷺ کی شان بیان کرنا اور ان کے احسانات پر کچھ لکھنا مجھ عامی اور کم ترین کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔

تاریخِ عالم ایسی شخصیات اور ایسے افراد کے تذکرے سے بھری پڑی ہے۔ جنہوں نے انسانوں کی خدمت کا فریضہ اپنے سر لیا۔ اگر آپ حکیموں اور فلسفیوں کے گروہ کا تذکرہ کریں تو یونان کے فلسفی ارسطو سر فہرست ٹھہرتے ہیں۔ حکمت ، فلسفہ، ادب اور تنقید کے میدان میں ان کی خدمات اور ان کے احسانات کی ایک دنیا متعرف ہے۔ اگر ان فلسفیوں اور حکیموں کے کارناموں کو عقیدت کی نگاہ سے ذرا ہٹ کر دیکھیں تو ہم پر ان کی محدود صلاحیتوں کا راز کھل جائے گا۔ انسان اور انسانیت کے مسائل ان کی حکمتوں اور فلسفوں سے حل نہ ہوئے۔

دوسری طرف اُن بڑے بڑے بادشاہوں اور فاتحین کی قطار نظر آتی ہے، جن کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز، ان کے تیروں کی سرسراہٹ اور ان کی تلواروں کی جھٹکار ابھی تک ہماری سماعتوں سے ٹکرا رہی ہے۔ کبھی سوچیں یہ بڑے بڑے فاتحین اور سلاطین انسانیت کے خیر خواہ تھے یا اس کے دشمن۔ ان کے ذریعے بےگناہوں اور نہتے لوگوں پر عذاب نازل ہوئے۔ انسانیت کو دکھوں کے سوا ان لوگوں نے کیا دیا؟ ان فاتحین نے انسانوں کے لئے عذابوں اور زحمتوں کے دروازے کھولنے کے سوا اور کوئی کام نہ کیا۔

ہم بعض اوقات امریکا کے جمہوریت پسند راہنماؤں کا نام لیتے ہیں اور ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے لیکن کیا ان جمہوریت پسند راہنماؤں نے غریب مسلمان ممالک کی فلاح و بہبود کے لئے کبھی سوچا۔ اسی طرح سائنسدان ہیں، جن کے احسانات نے ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں نے انسانیت کی خدمت کی۔ کسی نے بجلی اور بلب ایجاد کرکے انسانیت کو اندھیروں سے نکالا۔ کسی نے ہوائی جہاز بنا کر دنوں اور مہینوں کے سفر کو نہایت آسان بنا دیا۔ کسی نے ریڈیو، ٹی وی ایجاد کرکے دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا۔ ٹیلی فون، موبائل، ٹیلیکس اور فیکس جیسی ایجادات انسانوں کی زبردست خدمت کر رہی ہیں لیکن آج کا انسان ترقی یافتہ ہو کر اور پڑھ لکھ کر ایٹم بم، ہائیڈروجن بم، خطرناک میزائل، کلاشنکوفیں اور سلحہ و بارود کے انبار لگاتا چلا جا رہا ہے۔ کیا اسلحہ و بارود سے انسانیت کی خدمت ہوسکتی ہے؟ امریکا اپنے آپ کو سب سے بڑا جمہوریت اور امن کا علم بردار کہتا ہے لیکن اس کے کالے کرتوتوں سے کوئی مسلمان ملک محفوظ نہیں ۔ وہ ایک درندہ بن چکا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی بہتری، بھلائی اور رہنمائی کے لئے وقتاً فوقتاً اپنے انبیا بھیجے۔ ہر نبی یا پیغمبر اپنے خاص علاقے، خطے، قبیلے یا قوم کے لئے مبعوث کیا جاتا۔ ان انبیاء کرام کی تعلیمات مخصوص اقوام، علاقوں اور وقت کے لئے محدود تھیں۔ آخر کار رحمت حق جوش میں آئی اور اس نے ایسا نبی ﷺ بھیجا، جس کی اعلیٰ سیرت اور کردار کی اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ کو انسانیت کی فلاح و بہبود عزیز تھی۔ آپؐ کی سیرت اور آپؐ کی تعلیمات مخصوص قبیلوں، علاقوں اور خطوں کے لئے نہیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی تعلیمات اور سیرت کا فیض قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے نصابِ زیست قرار دے دیا۔

اگر ہم چودہ سو سال قبل کے وحشی اور درندوں پر مبنی معاشرے پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ کیا تھے۔ وہ صرف نام کے انسان تھے۔ ورنہ ان میں انسانوں والی بات ایک بھی نہ تھی۔ قبائلی لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسےچلے آرہے تھے۔ اُن کے ہاں پانی پینے پلانے پر جھگڑا ہوتا تھا اور کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پر تلواریں نکل آتی تھیں۔ کسی کی عزت محفوظ نہیں تھی۔ قافلوں کو لوٹنا ان کا کاروبار تھا۔ بیٹیوں کو ناموس کی خاطر زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ کعبہ کے گرد مردوزن کا برہنہ طواف کرنا ان کے نزدیک معیوب نہ تھا۔ بت پرستی اور شرک اپنے عروج پر تھا۔ جب انسانیت اتنی پستیوں میں گر چکی تھی اور ان کی اصلاح اور بہتری کی کوئی شکل دکھائی نہیں دے رہی تھی تو اللہ تبارک تعالیٰ نے 12 ربیع الاول کو عرب کے ایک ممتاز قبیلے قریش میں حضرت مصطفیٰ ﷺ کو پیدا فرمایا۔ 

آپؐ کی ولادتِ باسعادت سے قبل عرب معاشرے کے آسمان پر جہالت کی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ ہر کسی کا خدا الگ تھا۔ پتھروں، لکڑیوں اور مٹی کے بنائے ہوئے بت ان کے حاجت روا تھے۔ عبادت اپنے اپنے ذہن کی اختراعات تھیں۔ کوئی اہلِ خانہ اور معاشرے کو چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں اور بیابانوں میں جابستا تھا۔ کوئی عمر بھر برہنہ رہنے کو عبادت خیال کرتا تھا۔ ان کے اتنے معبود تھے کہ یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ ڈیوٹی پر کون ہے۔ لیکن آپ ﷺ کی آمد سے آپؐ کے پاکیزہ اوصاف و اطوار سامنے آئے۔ آپ بچپن ہی سے صادق اور امین کے پیارے لقب سے جانے جاتے تھے۔ اگر ہم آپؐ کے احسانات پر غور کریں تو آپؐ کے احسانات کا دائرہ صرف ہم انسانوں تک ہی نہیں بلکہ حیوانات، نباتات، جمادات، پرند، چرند غرض کائنات کی تمام آبی و خاکی مخلوقات تک پھیلا ہوا ہے۔ مولانا ظفر علی خاں کا یہ شعر کتنا خوبصورت ہے۔

لطفِ خدائے پاک کی تصویر کھینچ گئی

پھرنے لگے جب آنکھ میں احسانِ مصطفیٰ

🔹🔹🔹

ندیاں بن کے پہاڑوں میں تو سب گھومتے ہیں

ریگ زاروں میں بھی بہتا ہے دریا تیرا

آپؐ کی بعثت سے پہلے انسان ذات برادریوں، قبیلوں اور امیروں غریبوں میں منقسم تھا۔ ایک آقا کے کئی کئی غلام ہوتے تھے اور وہ اپنے غلاموں کو فروخت بھی کر سکتا تھا اور ان پر ظلم بھی کرنے کا حق رکھتا تھا۔ عزت، وقار اور شان کا معیار مال و زر، جاگیر اور جائیداد تھی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ بڑائی کا معیار تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔ آپؐ نے غلام اور آقا، نوکر اور مالک، امیر اور غریب کی تمیز ختم کردی اور معاشرے کو مساوات کی لڑی میں پرودیا یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔

نبی اکرمﷺ کے احسانات کی گنتی سے ہم ناقص العقل عاجز ہیں۔ دورِ جہالت میں نومولود بچی مظلوم شکل میں نظر آتی ہے۔ اس بےسمجھ اور معصوم بچی کے سامنے گڑھا کھودا جارہا ہے اور پھر اس میں زندہ پھینک کر اس پر مٹی ڈالی جارہی ہے۔ نبی پاکﷺ نے اس عمل کو نہایت گھناؤنا قرار دیا اور پورے عرب معاشرے پر اپنی رحمت کی چادر تان کر فرمایا۔ جسے تم عورت یا لڑکی سمجھ کر زندہ دفن کردیتے ہو۔ یہ بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے بلند مرتبے پر فائز ہے۔ آپؐ نے عورت کو عزت اور وقار سے نوازا، آپؐ نے ظلم کی چکی میں پسنے والی مظلوم عورت کو بلند مرتبہ اور مقام عطا فرمایا اور اسے وراثت میں حصہ دار بنایا۔

آپؐ کے مبعوث ہونے سے قلوب و اذہان میں تبدیلیاں ہونے لگیں۔ دنیا میں بڑے بڑے انقلاب رونما ہوئے لیکن اسلام جیسا انقلاب کہیں نہ آسکا۔ خارجی طور پر تو تبدیلیاں آجایا کرتی ہیں۔ لیکن باطنی تبدیلیاں کبھی نہیں آتیں۔ نبی اکرمﷺ کی برکتوں سے انسانوں میں تبدیلیاں پیدا ہونے لگیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ جب آپؐ پر ایمان لاتے ہیں تو اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حضرت عمرؓ پر جب مقامِ رسالت عیاں ہوتا ہے تو آپؓ عشقِ رسول کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں۔ حضرت عثمان غنی ؓ کی سخاوت میں نبی اکرم ﷺ کی نگاہ کرم تھی۔ حضرت بلال ؓ تپتی ریت پر احد احد کے الفاظ دہراتے ہیں تو ان الفاظ کے پیچھے عشقِ رسولﷺ کی طاقت کارفرما تھی۔

آپﷺ کی سیرت کا یہ کرشمہ ہم بے عقلوں اور بے سمجھوں کے لئے بہت کافی ہے کہ وہ لوگ جو معمولی باتوں پر تلواریں سونت لیتے تھے اور ایک دوسرے کی گردن مارنے پر تلے رہتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے بھائی، غمگسار اور جان نثار بن گئے۔ یہ اشعار دیکھئے:

محمد مصطفیٰ ﷺ ہی نے اندھیروں سے نکالا آدمیت کو

ملا ذاتِ محمد مصطفیٰﷺ ہی سے اجالا آدمیت کو

یہ دنیا ریت کی دیوار کی مانند گرتی جارہی تھی جب

محمد مصطفیٰ ﷺ خیر الواریٰ ہی نے سنبھالا آدمیت کو

ہم آئے روز اخبارات اور رسائل و جرائد میں بڑے بڑے ماہرین معاشیات کے دعوے اور بیانات پڑھتے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان ریاست کے ذمے ہے۔ اس نظام کے ذریعے چوری چکاری، رشوت ستانی اور دولت کی دوڑ کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے۔ دنیا میں نظامِ معیشت کے حوالے سے ان گنت ازموں نے جنم لیا۔ بےشمار تحریکیں ابھریں۔ لیکن کسی ازم اور کسی تحریک کے پاس انسانی خوش حالی کا مداوا نہیں تھا۔ اسلام کے نظامِ معاشیات پر غور کریں۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ مغربی نظامِ معیشت کی بنیادیں سود پر کھڑی ہیں اور اب لڑکھڑا رہی ہیں اور اپنی ناکامیوں کا نوحہ اپنی زبان سے پڑھ رہی ہیں۔

خلفائے راشدین کا دور آج بھی سب سے آئیڈل دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز سے اسلام نے منع کیا۔ اس دور کے لوگ اس چیز سے دور ہوگئے تھے اور جس چیز کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا، اس پر وہ پوری طرح کاربند ہوگئے۔ ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی ختم ہوگئی تھی۔ زکوٰۃ کے نظام کی بدولت زرداروں کا پیسہ مفلسوں اور ناداروں کے کام آتا تھا اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر معاشرے کی معاشی حالت کو سہارا دیتے تھے۔ یہ نبی اکرم ﷺ کا ہم پر احسان عظیم ہے۔

جہاں تک علم کا تعلق ہے تو نبی پاک ﷺ نے فرما دیا "علم حاصل کرنا ہر مرد و زن پر فرض ہے۔"

مہد سے لحد تک حصولِ علم کی جستجو پر زور دیا گیا ہے۔ آپؐ نے جہالت کی پستیوں میں گرے ہوئے انسانوں کو علم کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ ویسے علم مسلمان کی گم شدہ میراث ہے۔ ہمیں جہاں یہ میراث نظر آئے، وہیں سے اسے حاصل کرنے کی تگ و دود کرنی چاہیے۔

قیامت والے دن اس شخص کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا، جس کا اخلاق بہتر ہوگا۔ آپﷺ اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ لوگ آپؐ کے پاکیزہ اخلاق سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپؐ کسی کی سرزنش نہیں فرماتے تھے۔ کسی کی غلطی کو اس کے منہ پر بیاں نہیں فرماتے تھے۔ اگر کسی کی غلطی کی اصلاح مقصود ہوتی تو کسی تیسرے شخص سے کہلوا دیتے۔ آپؐ نے جاہل اور جان کے دشمنوں کو شیروشکر کردیا۔

کبھی ہم سوچتے ہیں کہ محسنِ انسانیت ﷺ نے اپنی تمام زندگی تبلیغ و ہدایت میں گزاری۔ خود راتوں کو جاگ جاگ کر اپنی امت کی بخشش کے لئے دعائیں کیں۔ غزوات میں شریک ہوئے۔ سفر طائف کے دوران پتھر کھائے۔ آپؐ نے اتنی قربانیاں صرف انسانیت کی خاطر دیں۔ ہم پر آپؐ کے احسانات اتنے زیادہ ہیں کہ ہماری زبانیں ہر لمحہ کلمہ شکر ادا کرتی رہیں تو بھی شکر کا حق ادا نہیں ہوگا۔

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب!