Thursday, 6 January 2022

Essay on The low standard of education and its barriers (معیارِ تعلیم کی پستی اور اس کا سدِّ باب) in Urdu for All students | Matric, Inter and BSc Urdu Essays | SSWT

 معیارِ تعلیم کی پستی اور اس کا سدِّ باب

تعلیمی نظام کو کسی بھی ملک کے ترقیاتی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے ۔ ایک چینی کہاوت ہے:

اگر سال بھر کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو فصلیں اُگاؤ ، اگر سو سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو درخت اُگاؤ اور اگر آئندہ ایک ہزار سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو تعلیم پر سرمایہ لگاؤ ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جن قوموں نے تعلیم کی طرف توجہ دی اُنھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی معراج پالی ۔ امریکہ ، چین ، جاپان ، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے اسی لائحہ عمل کو اپنا کر اپنے نصب العین کو پایا ہے ۔ جو قومیں تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتی ہیں ، وہ کبھی اپنے مقصد کو نہیں پاسکتیں کیونکہ جب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی جائے تو دیوار ثریا آسمان تک پہنچ کر بھی ٹیڑھی ہی رہتی ہے :

خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج

تا ثریا می رود دیوار کج

تعلیم کی حیثیت کسی بھی ملک و معاشرے کے لیے ایک مینارۂ نور کی سی ہے ، جو قوم کی رہنمائی کرتی اور اسے اس کے نصبُ العین کے حصول کی جانب گامزن رکھتی ہے ۔



ہمارے ملک میں تعلیم کی کشتی گزشتہ پانچ دہائیوں سے اب تک منزل سے بیگانہ تلاطم خیز موجوں کے ستم سہہ رہی ہے ۔ اگرچہ ہر حکومت نے اپنے طور سے تعلیم کو اولین ترجیحات میں سے قرار دیا اور اصلاحِ تعلیم کے لیے مفید پالیسیاں مرتب کیں لیکن افسوس کہ ان پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کام نہ ہوسکا اور نتیجتاً تعلیم کا مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے ۔ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے البتہ یہ کوشش ناکام نہیں رہی اور ہر دور حکومت بفضل اللہ خواندگی کی شرح کو پہلے سے کچھ اوپر لانے میں کامیاب رہی ہی ۔ قیامِ پاکستان کے ابتدائی چند سالوں سے لے کر آج تک کی حالت کا موازنہ کیا جائے تو فرق صاف ظاہر ہے ۔ ملک کے طول و عرض میں اسکولوں خصوصاً پرائمری اسکولوں کا جال بچھ چکا ہے ۔ اسکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ فنی اور پیشہ ورانہ سہولتیں بڑھی ہیں ۔ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے مفید اقدامات کئے گئے ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے نیز بچوں کو سکول بھیجنے کی ترغیب فراہم کرنے کے لیے کئی قسم کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ان تمام اقدامات سے ملک میں شرحِ خواندگی کو ایک معقول سطح پر لانے کی حکومتی کوششیں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں ۔

البتہ تصویر کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے نظامِ تعلیم کا رُخ پھیلاؤ کی طرف زیادہ ہے لیکن معیار پر توجہ نہ ہونے کے باعث یہ پستی کی جانب گامزن ہے ۔ نتیجتاً آج ہمارا نظامِ تعلیم نہ صرف ہمارے مقاصد کا درست طور پر ترجمان نہیں رہا بلکہ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ ملکی ترقی کی ضمانت دینے سے بھی قاصر دکھائی دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے فروغ کے باوجود آج بھی ہم اپنی حالت میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاسکے ۔

دراصل تعلیم ، معاشرے سے وابستہ اور پیوستہ ہوتی ہے ۔ تعلیمی نظام کی جڑیں معاشرے کے اجتماعی مقاصد سے پھوٹتی ہیں اور یہی مقاصد تعلیمی نظام کی روحِ رواں ہیں ۔ اس لحاظ سے تعلیمی نظام کے چیدہ چیدہ مقاصد کا خاکہ کچھ یوں ہوسکتا ہے :

(1)افراد میں معاشرے کے ایک ذمہ دار رُکن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا شعور و احساس بیدار کرنا ۔

(2)افرادِ معاشرہ کی صلاحیتوں کے مطابق بھر پور ذہنی اور جسمانی تربیت دینا تاکہ وہ عملی زندگی کے تقاضوں کا ساتھ دینے کے قابل ہوسکیں ۔

(3)افراد کو ایسے مفید ہُنر سکھانا ، جن کے ذریعے وہ باعزت طور پر اپنی روزی کماسکیں ۔

(4)طلبہ کے لیے جہت سازی کرنا یعنی انھیں اپنی صلاحیتوں اور رجہانات کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین شعبوں کے انتخاب میں مدد دینا ۔

(5)طلبہ میں باہمی تعاون ، ایثار ، ہمدردی ، خدمتِ خلق اور حُبُّ الوطنی کے جذبات کے فروغ  کے ذریعے اُن میں ایک معاشرتی روح بیدار کرنا ۔

(6)ثقافت کی ترسیل و اشاعت نیز تہذیب و ثقافت کی تعمیر و ترقی اور تسلسل کا سامان فراہم کرنا ۔

(7)طلبہ کو مختلف معاشرتی مشاغل کی بھر پور تربیت دینا تاکہ وہ ایک صحت مند کارکن کی حیثیت سے معاشرے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرسکیں ۔

(8)طلبہ میں نظم و ضبط کو راسخ کرنا کیونکہ نظم و ضبط اور تنظیم کے بغیر کوئی بھی فرد اور معاشرہ استحکام حاصل نہیں کرسکتا ۔

(9)طلبہ کو اُن کی صلاحیتوں کو پہنچاننے میں مدد دینا تاکہ وہ تعلیمی سرگرمیوں کو مقصد کے حصول کے لیے "ذریعہ" سمجھیں نہ کہ خود "مقصد" ۔ ایمرسن کا قول ہے :

The things taught in schools and colleges are not an education, but the means of education.

دراصل تعلیمی اداروں میں ملنے والا رزق پیاسوں کے لیے شبنم کی حیثیت رکھتا ہے اور نصاب مقصد نہیں بلکہ مقصد کو پانے کا ایک ذریعہ ہے ۔

ذوقِ تحقیق کو اُجاگر کئے بغیر علم کی حیثیت مغز سے تہی پوست کی ہے ۔ ایسا علم ، جو خود حصولِ علم کے راستے میں "حُجابِ اکبر " (بہت بڑی رکاوٹ یا پردہ ) بن جائے ، وہ علم سے قربت نہیں دوری کی دلیل ہے ۔ بقول اقبالؔ :

تجھے کتابوں نے کیا کور ذوق اتنا

صبا سے بھی نہ ملا تجھے بوئے گل کا سراغ

تعلیم ، نظریات کی غلامی کانام نہیں بلکہ حقیقی تعلیم تو وہی ہے جو افرادِ معاشرہ کو خود دوسروں کی رہنمائی کے قابل بنا دے ۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم تعلیم کے نام اپنے بچوں کو معلومات کا انبار تھما کر سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے فریضے سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔ یہ روش قوم کے مستقبل سے مذاق کے سوا کچھ نہیں ۔ تعلیم سے مقصدِ تعلیم کے منہا کر دیے جانے سے جو باقی بچے گا ، وہ صرف چھلکا اور پوست ہوگا :

عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی !

ہمارے نظام تعلیم کا ایک بہت بڑا نقص یہ ہے کہ اس میں تربیت کا عنصر مفقود ہے حالانکہ تربیت ہی تعلیم کا اصل جوہر ہے ۔ تربیت سے تہی تعلیم قوم کے کسی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتی بلکہ وہ خود مسائل کو جنم دیتی ہے ۔ اقبال نے بھی "تربیت " کو ہی تعلیم کا منصبِ اعلیٰ قرار دیا ہے ۔ ضربِ کلیم میں اپنی نظم "تربیت" میں اقبالؔ کہتے ہیں :

زندگی کچھ اور شے ہے ، علم ہے کچھ اور شے

زندگی سوزِ جگر ہے ، علم ہے سوزِ دماغ

علم میں دولت بھی ہے ، قدرت بھی ، لذت بھی ہے

ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

ہمارے نظام تعلیم کی ایک بہت بڑی خامی طلبہ کے لیے یکساں تعلیمی مواقع کی عدم دستیابی ہے ۔ ہمارے ہاں دو نظام ہائے تعلیم یعنی اردو اور انگریزی ذریعۂ تعلیم ، ایک دوسرے کے متوازی کام کر رہے ہیں ۔ انگریزی نظام تعلیم سے امرا کا طبقہ استفادہ کر رہا ہے جبکہ اردو نظام تعلیم سستا ہونے کی وجہ سے غریب طبقے کی امیدوں کا مرکز ہے ۔ مزید برآں پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی یکساں تعلیمی مواقع کے حصول کی راہ میں رُکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔

ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کا نصاب بھی یکساں نہیں ۔ ہر ادارہ اپنی خود مختاری کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنا الگ نصاب تعلیم رائج کر رہا ہے ۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہم آج تک تعلیم کے تمام مدارج کے لیے یکساں نصاب بھی مرتب نہیں کر سکے نتیجتاً آج ہمارا نظامِ تعلیم قومی اتحاد و ترقی کے خواب کو تعبیر دینے کی بجائے اس خلیج کو مزید وُسعت دے رہا ہے ۔

ہمارے نظامِ تعلیم کے فروغ کی راہ میں حائل ایک بڑا مسئلہ نصابی کتب کی عدم دستیابی بھی رہا ہے ۔ البتہ اب نصابی کتب کی وسیع پیمانے پر اشاعت اور حکومت کی طرف سے مفت کتابوں کی تقسیم کے بعد اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے ۔

ہمارے ہاں جہالت اور فرسودہ روایات کی وجہ سے خواتین کی تعلیم کا رُجحان بہت کم ہے ۔ ایک لڑکی کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم کے مترادف ہے ۔ اب حکومت نے خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے "تعلیمِ نسواں" کے نام سے خواتین کے لیے فروغ تعلیم کے کئی منصوبے شروع کئے ہیں ، جن سے خواتین میں شرحِ خواندگی کے تناسب میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت کی طرف سے سکول کی سطح پر بچیوں کو مفت کتب کی فراہمی اور دیگر ترغیبات سے بھی اب لوگوں میں بچیوں کو اسکول بھیجنے کے حوالے سے بہت مثبت تبدیلی سامنے آئی ہے ۔

جدید سائنسی اور فنی تعلیم میں درکار سہولتوں کا میسر نہ ہونا بھی ہمارا اہم تعلیمی مسئلہ ہے ۔ ہمارے ہاں جدید علوم کے میدان میں تربیت یافتہ افراد کی کمی ہے ۔ میڈیکل ، انجینئرنگ ، کیمسٹری اور فزکس جیسے شعبہ جات میں مناسب راہنمائی کے فقدان کی وجہ سے طلبہ کی بڑی تعداد بیرونی ممالک کا رُخ کر رہی ہے ۔ یہ طلبہ تعلیم کے بعد عموماً بیرونی ممالک میں کام کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ یوں یہ مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی معقول تنخواہیں مقرر کرے نیز اُنھیں کئی قسم کی ترغیبات کے ذریعے بھی ملک میں کام کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے ۔

حالیہ نظامِ تعلیم میں اساتذہ اور لیکچرز کی کنٹریکٹ پر بھرتی سے بھی تعلیمی نظام شدید نوعیت کے مسائل کا شکار ہوگیا ہے ۔ اساتذہ کو سکون نصیب ہوسکتا ہے بلکہ طلبہ پر بھی اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے ۔

ہمارے تعلیمی نظام کی تعمیر میں خرابی کا ایک پہلو یہ بھی مضمر ہے کہ ہمارا امتحانی نظام نہایت فرسودہ بنیادوں پر قائم ہے ۔ امتحانی نظام ، نظام تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے نیز اسی سے نظام تعلیم کے معیار کاتعین ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب تک جانچنے کا نظام ہی درست نہ ہوگا ، تعلیمی سند کا اعتبار کیونکر قائم ہوسکے گا ۔ ہمارے ہاں امتحان میں طلبہ کی صلاحیتوں کو چیلنج کرنے والے سوالات شاذونادر ہی پوچھے جاتے ہیں اور عماماً ایسے سوالات کا اعادہ کیا جاتا ہے جو پہلے ہی طلبہ کو "گیس" کی صورت میں رٹے ہوتے ہیں اور وہ اس سوالات کو حل کر کے امتحان میں پاس ہوجاتے ہیں ۔ اس طریقے سے بنائے گئے پرچے طلبہ کے معیار میں تفاوت نہیں کرسکتے ۔ ممتحنوں کی حالت دیکھی جائے تو وہ اس سے بھی خراب ہے ۔ پرچے چیک کرنے والے عموماً معیار نہیں بلکہ مقدار دیکھ کر اور صفحے گن کر نمبر لگاتے ہیں جو قابل طلبہ کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے ۔ پرچے جانچنے والوں کو اس مقصد کے لیے باقاعدہ تربیت دینی ضروری ہے تاکہ قوم کا مستقبل ہماری کاہلی اور عدم منصوبہ بندی کی بھینٹ چڑھ کر تباہ نہ ہوجائے ۔ جب تک امتحانی نظام کو شفاف نہیں بنایا جاتا ، ہماری تعلیمی سند کا دنیا بھر میں اعتماد قائم نہیں ہوسکتا ۔

حکومت کو چاہیے کی وہ فروغِ تعلیم کے منصوبوں کی مد میں کثیر رقم ہی مختص نہ کرے بلکہ ان عملی مسائل کی طرف توجہ بھی عملی دے تاکہ ہمارا نظام تعلیم بھی دنیا کے ترقی یافتہ اور جدید ترین نظام ہائے تعلیم کے متوازی کھڑا ہوسکے ۔ اگر تعلیمی میدان میں کامیابی کا معرکہ سر کر لیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ باقی تمام مسائل کے حل کی کلید بھی ہمارے ہاتھ میں آجائے گی ۔ ضرورت صرف اس عملی اور مخلصانہ نوعیت کے کام کی ہے جس کے لیے حکومت اور عوام دونوں کا اپنی ذمہ داریوں سے باخبر ہونا ضروری ہے ۔